(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ)غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کا غزہ کے شہریوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، مصر کے ذرائع کے مطابق غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل مصر کو شرمندہ کرنے کے لیے ایک منصوبے پر عمل کر رہی ہے جس کا مقصد غزہ کے شہریوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے، اور اس کے ذریعے مصر پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ غزہ کے ساتھ اپنی سرحدیں کھول دے۔
اس مقصد کے لیے صیہونی دشمن نے غزہ کے جنوبی شہر رفح، خاص طور پر مصر کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں بمباری میں اضافہ کر دیا ہے، جیسا کہ تل السلطان میں دیکھا گیا۔ اس حکمت عملی کے ذریعے اسرائیل مصر پر دباؤ ڈال رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مزید قتل عام ہو رہا ہے۔
یہ تمام حالات اس وقت سامنے آ رہے ہیں جب مصر نے متعدد بار امریکی اور اسرائیلی دباؤ کے باوجود غزہ کے حوالے سے ان کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیل نے قاہرہ کو رسمی طور پر آگاہ کیا کہ وہ مصر کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتا ہے، حالانکہ حماس نے اس تجویز پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ مصری ذرائع کے مطابق، گزشتہ دنوں اور گھنٹوں میں مصر کی جانب سے پیش کی گئی تمام تجویزیں ناکام ہو چکی ہیں، اور امریکی انتظامیہ نے بھی اس حوالے سے کسی قسم کی ضمانتیں دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مصر کی طرف سے انسانی ہمدری کی بنیاد پر عید الفطر کے دوران جنگ بندی کی تجویز کو بھی صیہونی ریاست نے مسترد کردیا ہے۔ اس تجویز کو نہ صرف غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے مسترد کیا، بلکہ امریکی مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی، اسٹیو وٹکوف نے بھی اس تجویز پر کسی قسم کی پذیرائی ظاہر نہیں کی۔ مصری ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اور امریکہ حماس پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اسرائیل اور امریکہ کے مطالبات کو قبول کرے۔
اسرائیل کا یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے ناقابل عمل شرائط پیش کی ہیں، جن میں حماس کی سیاسی اور فوجی قیادت کو غزہ سے نکالنا اور تحریک کا اسلحہ مکمل طور پر ضبط کرنا شامل ہے۔
حماس کے ایک رہنما کے مطابق، اسرائیل نے گزشتہ مہینوں کے دوران کئی بار اس شرط کو مذاکرات کے دوران پیش کیا، اور یہ فہرست حال ہی میں اسرائیل نے اردن کے حوالے کی تھی، جس میں تین ہزار حماس رہنماؤں اور اراکین کے نام شامل تھے۔ رہنما نے کہا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اس شرط کو براہ راست مذاکرات میں منظور کرانے میں ناکام ہونے کے بعد اسے علاقائی دباؤ اور رابطوں کے ذریعے پیش کر رہی ہے۔
مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ مصر فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کی حمایت کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے گا، اور غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے مصر کی مسلسل کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ خونریزی کو روکنے اور علاقے میں امن و سکون کی بحالی کے لیے اپنے اقدامات کو متحد کرے۔