(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) صیہونی ریاست اسرائیل کے عبرانی اخبار ہارٹز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں قید 251 اسرائیلی قیدیوں میں سے 41 صیہونی ریاست کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ان میں سے کچھ قیدیوں کی ہلاکت اسرائیلی فوج کے حملوں کی وجہ سے ہوئی، جن میں چھ قیدی اگست 2024 میں مارے گئے۔ صیہونی فوج نے اپنی ابتدائی تحقیقات میں دعویٰ کیا کہ انہیں ان قیدیوں کی موجودگی کا علم نہیں تھا، حالانکہ ہارٹز کے مطابق فوج کو معلوم تھا کہ ان کے حملے سے قیدیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اخبار نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اگرچہ صیہونی فوج نے خان یونس میں اپنی کارروائیاں قیدیوں کی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ایک دن کے لیے روکی تھیں، لیکن اس کے بعد انہوں نے یحییٰ السنوار (حماس کے رہنما) کو تلاش کرنے کے لیے دوبارہ حملے شروع کر دیے۔ اخبار نے صیہونی سیکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قیادت کے نزدیک "السنوار کو تلاش کرنا قیدیوں کی زندگی بچانے سے زیادہ اہم تھا۔”
اکتوبر 2024 میں، طوفان الاقصیٰ آپریشن کے ایک سال بعد، اسرائیلی فوج نے جنوبی رفح میں یحییٰ السنوار کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اگرچہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو بار بار قیدیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری حماس پر ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، مگر اسرائیلی اپوزیشن انہیں ہی اس معاملے کا اصل مجرم قرار دے رہی ہے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ نیتن یاہو نے مہینوں تک کسی قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو روکا رکھا، کیونکہ وہ اپنے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کو ناراض کرنے اور اپنی حکومت گرانے کے خوف میں مبتلا تھے، جو غزہ میں تباہ کن جنگ جاری رکھنے کے حامی تھے۔
مارچ 2025 کے آغاز میں غزہ میں 42 دن تک جاری رہنے والے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا، تاہم صیہونی ریاست نے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے سے انکار کر دیا، جس میں جنگ کے مکمل خاتمے کی شرط شامل تھی۔ نیتن یاہو، امریکی حمایت کے ساتھ، جنگ بندی کو مزید طول دینے کے خواہاں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو بغیر کسی بڑی رعایت دیے چھڑایا جا سکے اور اس دوران غزہ پر جارحیت بھی جاری رہے۔