اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے مرکزی رہ نما حسام بدران نے کہا ہے کہ سنہ 1967 ء کی جنگ میں اسرائیلی قبضے میں آنے والے علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔
ہماری جدوجہد پورے فلسطین کی آزادی کے لیے ہے۔ فلسطین کے کسی ایک ٹکڑے کو آزاد ریاست کا نعم البدل نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر فلسطینی اتھارٹی اسرائیل سے صرف سنہ 1967 ء کی حدود میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مذاکرات کررہی ہے تو قبول نہیں۔
عرب خبر رساں ایجنسی "قدس پریس” سے گفتگو کرتے ہوئے حسام بدران نے کہا کہ لوگ ہم سے فلسطینی ریاست کی حدود اور اس کا محل وقوع پوچھتے ہیں۔ کیا فلسطین کا نقشہ، اس کا محل وقوع اور جغرافیا بالکل واضح نہیں ہے۔ نہر فرات سے بحر اسود تک تمام علاقے فلسطینی ریاست کا حصہ ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک چپے کو بھی اسرائیل ریاست قرار دیا جاتا ہے تو یہ فلسطینیوں کے حق کی تلفی ہوگی۔ ہماری جدوجہد صرف بیت المقدس، دریائے اردن کے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے لیے نہیں بلکہ پورے فلسطین کی آزادی تک ہماری مسلح جدوجہد جاری رہے گی۔
حماس رہ نما نے کہا کہ ان دنوں سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر مجوزہ فلسطینی ریاست کا جو نقشہ شہرت پا رہا ہے، اس کا حقیقی نقشے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیا ہماری طویل جدوجہد کا نتیجہ صرف مغربی کنارا اور غزہ کی پٹی میں حکومت قائم کرنا ہے۔ نہیں ہرگز ہمیں یہ تصور قبول نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں حسام بدران نے کہا کہ صہیونی ریاست، امریکا اور یورپ مل کر فلسطینیوں کو ان کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ فلسطینی ریاست کے نقشے میں جعل سازی کی جا رہی ہے اور مرضی کے نقشے مشتہر کیے جا رہے ہیں۔ ہمیں کسی دوسرے ملک کا وضع کردہ نقشہ قبول نہیں۔ فلسطینی جس وطن میں صدیوں سے آباد چلے آ رہے ہیں۔ اس کی سرحدیں واضح ہیں۔ ایک وسیع وعریض ملک ہے جس میں اسرائیلی ریاست کا کوئی وجود نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
