(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی طرف جانے والی تمام اقسام کی امداد بند کر دی جائے گی اور تمام راستے بند کر دیے جائیں گے۔
یہ اعلان ایک چالاکی سے بھری حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جو غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اس کے رمضان المبارک کے دوران عارضی جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔
اس دوران، قاہرہ میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور قطر کے وفود مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ جنگ بندی کے معاہدے کو مزید بڑھایا جا سکے یا دوسرے مرحلے پر اتفاق کیا جا سکے۔ تاہم، اسی دوران ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل میں 70 سے زائد احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں مظاہرین نے غزہ میں قید اپنے شہریوں کی تصاویر اٹھا کر نیتن یاہو کے خلاف نعرے لگائے اور اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ ایک نیا جنگ بندی معاہدہ کرے تاکہ باقی قیدیوں کو بھی رہا کرایا جا سکے۔
اتوار کے روز غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو نے فیصلہ کیا ہے کہا مریکی مندوب اسٹیو ویٹکوف کی طرف سے پیش کردہ عارضی جنگ بندی کی تجویز کو حماس کی جانب سے مسترد کرنے کے نتیجے میں غزہ میں تمام اشیاء اور امدادی سامان کی ترسیل فوری طور پر بند کی جائے گی۔”
حماس نے اس فیصلے کو "سفاکانہ بلیک میلنگ، جنگی جرم، اور معاہدے پر صریح دھوکہ دہی” قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ 42 دن تک جاری رہنے والے معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا۔ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ نیتن یاہو کی امریکی حکومت سے مشاورت کے بعد لیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ "یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ حماس نے ویٹکوف کے منصوبے کے تحت مزید اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا۔” تاہم، حقیقت میں یہ منصوبہ جنگ بندی کو طول دینے کا ایک حربہ تھا، جس میں کوئی ٹھوس یقین دہانی یا ضمانت شامل نہیں تھی۔
اس حوالے سے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے نیوز پورٹل "واینیٹ” نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا نیتن یاہو اور اس کی حکومت کا یہ فیصلہ جنگ کے دوبارہ آغاز کا اشارہ ہے؟ خبر میں بتایا گیا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی سیاسی قیادت کی ہدایت پر صیہونی فوج نے اتوار کی صبح غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو روک دیا اور تمام گزرگاہوں کو مکمل طور پر بند کر دیا۔
بیان میں مزید دھمکی دی گئی کہ "اگر حماس نے انکار جاری رکھا تو اس کے مزید سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔”
"واینیٹ” کے مطابق، "ویٹکوف کا منصوبہ” جو گزشتہ رات تک غیر واضح تھا، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے نیتن یاہو کے ساتھ مشاورت کے بعد اس کی منظوری دی۔ اس منصوبے کے تحت جنگ بندی کو عارضی طور پر 50 دنوں تک بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی، جس میں پہلے دن نصف اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا اور بقیہ قیدیوں کو پچاسویں دن رہا کرنا تھا، بشرطیکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور حماس مستقل جنگ بندی پر متفق ہو جائیں۔