(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے اور غزہ میں جنگ بندی سے متعلق ثالثوں کی تجویز قبول کرنے پر اپنا ردعمل کل ہفتے کی شام تک موخر کر دیا ہے۔
جمعہ کے روز، حماس نے اعلان کیا کہ وہ امریکی شہریت رکھنے والے صیہونی فوجی عیدان الیگزینڈر کی رہائی پر آمادہ ہے، ساتھ ہی 4 دیگر دوہری شہریت رکھنے والے فوجیوں کی لاشیں بھی حوالے کرنے پر تیار ہے۔ حماس نے اپنے بیان میں کہا: "تحریک مکمل طور پر مذاکرات کے آغاز اور دوسرے مرحلے کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے، اور ہم غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو اس کے وعدے پورے کرنے کا پابند بنانے کے لیے ثالثوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا: "جہاں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کے منصوبے کو قبول کیا، وہیں حماس نے اسے مسترد کر دیا اور کسی بھی طرح نرمی نہیں دکھائی۔ حماس صرف نفسیاتی جنگ اور چالاکی میں مصروف ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہفتے کی شام نیتن یاہو وزارتی ٹیم کے ساتھ ایک اجلاس کریں گے، جس میں مذاکراتی ٹیم کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے آئندہ کے اقدامات پر فیصلہ کیا جائے گا۔
اسی دوران، ایک صیہونی عہدیدار نے الزام لگایا کہ "حماس کی جانب سے امریکی قیدیوں کی رہائی کی پیشکش کا مقصد مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے۔” امریکی ویب سائٹ "ایکسئیس” کے مطابق، یہ عہدیدار دعویٰ کرتا ہے کہ "حماس نے اپنی پوزیشن میں کوئی نرمی نہیں دکھائی، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ، قطری اور مصری ثالثوں نے اس معاملے میں کافی محنت کی، اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل بھی لچک دکھانے کو تیار تھی۔”
اسرائیلی اخبار "ہارٹز” نے نیتن یاہو کے دفتر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ "دوحہ میں جاری جنگ بندی مذاکرات میں شریک صیہونی وفد ہفتے کی شام واپس چلا جائے گا۔” ایسا لگتا ہے کہ حماس کی جانب سے ثالثی کی تجویز قبول کرنے کے اعلان نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو حیران کر دیا، کیونکہ وہ مسلسل دعویٰ کر رہا تھا کہ حماس ہر پیشکش کو مسترد کر رہی ہے اور اسی بنیاد پر غزہ پر جنگ جاری رکھنے کی تیاری کر رہا تھا۔
دوسری طرف، "ایکسئیس” نے امریکی اور صیہونی حکام کے حوالے سے بتایا کہ مذاکراتی وفود آج جمعہ کو پانچ دن کی بات چیت کے بعد دوحہ چھوڑ چکے ہیں، کیونکہ بات چیت میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایک ایسا معاہدہ طے پائے جس کے تحت کچھ قیدیوں کی رہائی ہو اور جنگ بندی کم از کم 20 اپریل (یہودی عیدِ فصح کے اختتام) تک جاری رہے۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا: "ہم نے اس تجویز کا سنجیدگی اور مثبت انداز میں جائزہ لیا اور آج جمعہ کو اس کا جواب دے دیا ہے۔ ہم جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے آغاز کے لیے تیار ہیں اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو اس کے وعدے پورے کرنے پر مجبور کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
حماس کے بیان میں اس امریکی تجویز کی منظوری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو گزشتہ ہفتے امریکی ایلچی ایڈم بولر نے دوحہ میں پیش کی تھی۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد امریکی قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنانا تھا، جسے ایک وسیع تر معاہدے کے پہلے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، جس کے تحت تمام قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کو مستقل کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ تاہم، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
امریکی وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکہ جنگ بندی کے دوران غزہ میں ایک مستقل حل تلاش کرنے کے لیے کوشش کرے گا۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا کہ "قطری اور مصری ثالثوں نے حماس کو واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ امریکی تجویز کو جلد از جلد نافذ کرنا ہوگا۔”
گزشتہ روز، عبرانی میڈیا نے اطلاع دی کہ ویٹکوف نے دونوں فریقوں کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت 5 صیہونی قیدیوں کی رہائی کے بدلے 50 دن کی جنگ بندی، فلسطینی قیدیوں کی غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جیلوں سے رہائی، انسانی امداد کی فراہمی، اور دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں شمولیت شامل ہے۔
مارچ کے آغاز میں، غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا اختتام ہوا، جو 42 دن تک جاری رہا، جبکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے اور جنگ ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ نیتن یاہو اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں توسیع چاہتا ہے، جو 19 جنوری 2025 کو نافذ ہوا، تاکہ زیادہ سے زیادہ صیہونی قیدیوں کو بغیر کسی رعایت دیے رہا کرایا جا سکے، اور معاہدے میں شامل فوجی اور انسانی حقوق کی شرائط کو نظر انداز کر سکے، تاکہ اپنی حکومت میں موجود انتہا پسندوں کو خوش کر سکے۔
دوسری جانب، حماس تحریک نے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا ہے اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو اس کے تمام نکات پر عمل کرنے کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حماس نے ثالثوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر دوسرے مرحلے کے مذاکرات کا آغاز کریں، جس میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے غزہ سے مکمل انخلا اور جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔
امریکی حمایت سے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، جس میں اب تک 160,000 سے زائد فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں، جبکہ 14,000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔