(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک امریکی نژاد اسرائیلی قیدی اور چار دیگر قیدیوں کی لاشوں کو اس وقت تک آزاد نہیں کرے گی جب تک غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل غزہ میں جاری جنگ بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کرتی اور مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا آغاز نہیں کرتی۔
آج ہفتہ کے روز حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ طویل عرصے سے مؤخر کیے گئے مذاکرات، جو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق ہیں، قیدیوں کی رہائی کے دن سے شروع ہونے چاہئیں اور پچاس دن سے زیادہ جاری رہنے چاہئیں۔
اس عہدیدار، جس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے مزید کہا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو غزہ میں انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے بھی باز آنا چاہیے اور مصر سے ملحقہ غزہ کی سرحد پر واقع اسٹریٹیجک صلاح الدین محور (فیلادلفی) سے انخلا کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ حماس مزید فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے پانچ اسرائیلی قیدیوں کی رہاکرے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب حماس نے گزشتہ روز جمعہ کو کہا تھا کہ اس نے ثالثوں کی طرف سے پیش کردہ ایک تجویز کے تحت قیدیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ دوسری طرف، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ حماس کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرنے کے فیصلے پر اپنا ردعمل آج ہفتے کی شام تک مؤخر کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: "جبکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے منصوبے کو قبول کر لیا ہے، حماس اسے مسترد کرنے پر مصر ہے اور کسی بھی لچک کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ وہ اب بھی نفسیاتی جنگ اور چالاکی میں مصروف ہے۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو کہا کہ حماس مذاکرات میں غیر حقیقی مطالبات رکھ رہی ہے، جو غزہ میں مستقل جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ امریکی دفتر نے بیان میں مزید کہا: "حماس کا یہ غلط اندازہ کہ وقت اس کے حق میں ہے، بہت برا ہے، کیونکہ ایسا نہیں ہے۔ اسے سمجھنا چاہیے کہ اگر ہمارے تجویز کردہ معاہدے کے جواب کی مدت ختم ہو گئی، تو ہم اس کے مطابق ردعمل دیں گے۔”
گزشتہ روز جمعہ کو، حماس نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ وہ امریکی شہریت رکھنے والے اسرائیلی فوجی عیدان الیگزینڈر اور چار دیگر دوہری شہریت رکھنے والے قیدیوں کی لاشوں کو ایک نئی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز کے جواب میں رہا کرنے پر آمادہ ہے۔ حماس نے کہا کہ اس نے اس تجویز کو "ذمہ داری اور مثبت انداز” میں لیا اور "جمعہ کی صبح اس کا جواب دے دیا”، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ وہ مذاکرات شروع کرنے اور دوسرے مرحلے کے معاملات پر مکمل معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔ اس نے قابض ریاست کو اس کے تمام وعدوں پر عمل درآمد کا پابند بنانے پر زور دیا۔
عبرانی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کو اطلاع دی تھی کہ امریکی ایلچی نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور حماس کو ایک تازہ ترین تجویز پیش کی، جس میں پانچ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے پچاس دن کی جنگ بندی، فلسطینی قیدیوں کی رہائی، انسانی امداد کی فراہمی اور مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کی شرط شامل تھی۔
غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے، جو بیالیس دن تک جاری رہا، کا آغاز رواں سال مارچ کے اوائل میں ہوا تھا، لیکن غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے اور جنگ کے خاتمے سے انکار کر دیا۔ نیتن یاہو جنگ بندی کے پہلے مرحلے کو مزید طول دینا چاہتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ اسرائیلی قیدیوں کو بغیر کسی رعایت دیے رہا کرایا جا سکے، جبکہ گزشتہ معاہدے میں طے شدہ فوجی اور انسانی شرائط کو پورا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔