(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے حماس اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر کسی قومی مینڈیٹ کے، "غیر ملکی فریقوں کے ساتھ رابطے قائم کرنا اور ان سے مذاکرات کرنا فلسطینی قانون کی خلاف ورزی ہے، غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ خفیہ روابط ملت کے خلاف جرم ہے۔”
ابو ردینہ نے اپنے ایک پریس بیان میں کہا کہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقدہ عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر حماس کے غیر ملکی اداروں سے رابطوں کا انکشاف ہوا اور جس میں عرب لیگ کے فیصلوں کو نظر انداز کرنے اور عرب دنیا کے مضبوط مؤقف کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ خاص طور پر مصری-فلسطینی منصوبہ جو غزہ کی تعمیرِ نو اور وہاں کے شہریوں کو جلاوطن کرنے کی کوششوں کو روکنے پر مرکوز ہے۔
فلسطینی صدارتی ترجمان نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی شعور کا مظاہرہ کرے، داخلی تقسیم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے، اور غزہ کو فلسطینی قومی اتھارٹی کے حوالے کرے، تاکہ فلسطین میں ایک متحدہ قومی حکومت، ایک ہی قانون، ایک ہی اسلحہ اور ایک جائز سیاسی نمائندگی قائم ہو سکے۔