اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے فلسطینی صدر محمود عباس کے اپنی پارٹی الفتح کی سینٹرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کو مثبت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صدر عباس نے اسرائیل کے ساتھ نو مہینے تک جاری رہنے والی مذاکرات کی نام نہاد مشق کی ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر عباس نے اسرائیل سے امن مذاکرات کی ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے۔ یہ اعتراف ایک مثبت قدم ہے جس کے بعد قومی مطالبات اور بنیادی حقوق کی طرف لوٹنے کا موقع ملا ہے۔
فوزی برھوم کا کہنا تھا کہ صدر عباس کی جانب سے امن مذاکرات کی ناکامی کا اعتراف ہی کافی نہیں صدر عباس کو چاہیے کہ وہ صہیونی ریاست کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کریں۔
انہوں نے کہا کہ صدر محمود عباس نے اپنی تقریر میں اسرائیل کو "یہودی ریاست” تسلیم نہ کرنے، پناہ گزینوں کی واپسی کے حق کی حمایت، فلسطینی اسیران کی رہائی کا مطالبہ اور قومی مفاہمت کی حمایت کرکے مثبت تاثر دیا ہے۔ اب انہیں اپنے قول پر قائم رہنا چاہیے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ قومی حکومت میں تمام دھڑوں کو ان کی حیثیت کے مطابق نمائندگی دی جائے گی۔ کسی فرد واحد کو حکمرانی کا اختیار نہیں ہوگا۔ نیز یہ حکومت محدود مدت کے لیے ہوگی جو انتخابات کی تیاریوں کے انتظامات کرائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
