(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منگل کے روز منعقدہ عرب ہنگامی سربراہی اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے مصری منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا، جس میں فلسطینِ مظلوم سے متعلق کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی۔
اختتامی بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے ایک ہی اتھارٹی کے تحت برقرار رہیں۔ اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کے مکمل نفاذ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ عرب سربراہی اجلاس کے مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ منصوبہ مغربی کنارے اور غزہ کے درمیان روابط کو برقرار رکھتا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ امن، عرب دنیا کا اسٹریٹجک انتخاب ہے۔
بیان میں عرب دنیا کے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے خلاف متفقہ موقف کو اجاگر کیا گیا اور کسی بھی شکل میں فلسطینیوں کی بے دخلی کو مسترد کر دیا گیا۔ اسی طرح، دو ریاستی حل کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
عرب سربراہی اجلاس میں غزہ کے لیے ایک نئے سیکیورٹی اور سیاسی ڈھانچے کی ضرورت پر بھی گفتگو کی گئی، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ اور مغربی کنارے میں بین الاقوامی امن فوج تعینات کرے۔
فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفی نے عرب منصوبے پر امید کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس کے نفاذ کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
اجلاس کے اختتام پر مصطفیٰ نے قومی مکالمے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد تمام داخلی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے اور اس کے لیے تمام فریقین کی قوم پرستی اور اخلاص پر انحصار کیا جائے گا۔
حماس نے عرب سربراہی اجلاس میں منظور شدہ غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کی کامیابی کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کرنے پر زور دیا۔
حماس نے اجلاس میں جنگ بندی کے نفاذ پر زور دینے کے اقدام کو فلسطینی عوام کے لیے ایک مضبوط سیاسی حمایت قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو معاہدے کو سبوتاژ کرنے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔
حماس نے مزید کہا کہ آج کا عرب سربراہی اجلاس، فلسطینی کاز کے حق میں عرب اور اسلامی یکجہتی کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد رکھتا ہے۔
سربراہی اجلاس کے دوران مصر، اردن اور دیگر عرب ممالک کے سربراہان نے نہ صرف غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کی حمایت کی، بلکہ فلسطینیوں کے جبری انخلا اور جنگ کے دوبارہ آغاز کی سختی سے مخالفت بھی کی۔
قاہرہ میں منعقدہ یہ غیر معمولی عرب سربراہی اجلاس فلسطینی تنازع کے حالیہ سنگین حالات اور غزہ کے بارے میں عرب ممالک کے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کرنے کے لیے منعقد کیا گیا۔