(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) لبنان کی خبر ایجنسی المیادین کو دئے گئے ایک بیان میں حماس کے رہنما نے نام ظاہر نا کرتے ہوئے بتایا ہے کہ "قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات دوسرے مرحلے کے لیے راہ ہموار کرنے میں فی الحال ناکام ہوگئے "ثالث غاصب صیہونی ریاست کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کرنے پر قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے”۔
فلسطینی رہنما نے زور دیا کہ "مزاحمتی تحریک کسی بھی قیدی کو صرف ایک مکمل معاہدے کے تحت ہی رہا کرے گی” مزاحمت صیہونی ریاست کی بلیک میلنگ کی حکمت عملی کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
صیہونی ریاست کی ہٹ دھرمی
انہوں نے وضاحت کی کہ "یہ صیہونی ریاست ہی ہے جس نے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے میں تاخیر کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "غاصب صیہونی حکومت پہلے مرحلے کو طول دینے اور اپنے قیدیوں کو تدریجی طور پر واپس لانے کی چالاکی میں مصروف ہے”۔
صیہونی دباؤ اور ثالثوں کا مؤقف
فلسطینی رہنما نے مزید کہا کہ ثالثوں کا کہنا ہے کہ "صیہونی حکومت کا سیاسی دھڑا پہلے مرحلے میں توسیع کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ حماس کچھ قیدیوں کو پہلے رہا کرے”۔
قاہرہ میں مذاکراتی عمل
گزشتہ روز، مصری جنرل انفارمیشن اتھارٹی نے اعلان کیا کہ "صیہونی ریاست اور قطر کے وفود قاہرہ پہنچ گئے ہیں تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات مکمل کیے جا سکیں، جس میں امریکی نمائندے بھی شریک ہیں”۔
حماس کا مؤقف
قبل ازیں، اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ "صیہونی دشمن کے جھوٹے بہانوں کا راستہ بند کر دیا گیا ہے، اب اس کے پاس مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں”۔
حماس نے مزید کہا کہ "صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے اور پیچھے ہٹنے کی کوششیں صرف قیدیوں اور ان کے خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کریں گی”۔
حماس نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ "صیہونی قیدیوں کی رہائی کا واحد راستہ مذاکرات اور معاہدے کی پاسداری ہے”۔