(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں موجود دو مصری سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کا وفد جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں 42 دن کی توسیع کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ معاہدے کے مطابق فوری طور پر دوسرے مرحلے میں داخل ہونا چاہیے۔
جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام سے قبل، حماس نے آج اپنے مکمل عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معاہدے کے تمام مراحل اور تفصیلات پر عمل کرے گی۔ جماعت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور کسی تاخیر یا چالاکی کے بغیر فوری طور پر دوسرے مرحلے میں داخل ہو۔
دوسری جانب، "رائٹرز” کو دیے گئے بیان میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے دو سرکاری عہدیداروں نے تصدیق کی کہ ان کا ملک پہلے مرحلے کی مدت میں توسیع چاہتا ہے، جس کے تحت ہر ہفتے تین اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی جاری رہے گی۔
گزشتہ روز، مصر نے اعلان کیا کہ قاہرہ میں جنگ بندی معاہدے کے فریقین کے درمیان گہرے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے، جن کا مقصد معاہدے کے اگلے مراحل کی تفصیلات طے کرنا ہے۔ مصری جنرل اتھارٹی فار انفارمیشن کے مطابق، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور قطر کے وفود قاہرہ پہنچ چکے ہیں، جہاں امریکی نمائندوں کی موجودگی میں مذاکرات جاری ہیں۔
جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی مدت کل ہفتے کے روز ختم ہو رہی ہے، تاہم دوسرے مرحلے کا نتیجہ ابھی تک غیر واضح ہے۔ اس دوران، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو واضح طور پر اس معاہدے کے سیاسی پہلو پر عمل درآمد سے گریزاں نظر آتے ہیں، جس میں غزہ سے صیہونی افواج کا مکمل انخلا، تعمیر نو کے عمل کا آغاز، اور جنگ بندی کو مستقل کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔