(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ)امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی میں کئی ہفتوں کی توسیع کے لیے ایک نئی امریکی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے بدلے میں، حماس سے مزید قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے
ذرائع کے مطابق، وِٹکوف نے بدھ کے روز متعلقہ فریقین کو ایک نظرِ ثانی شدہ تجویز پیش کی، جس میں رمضان اور یہودی عیدِ فسح (20 اپریل تک) کے بعد بھی غزہ میں جنگ بندی جاری رکھنے اور انسانی امداد کی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔
دو ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجویز ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کے لیے مزید وقت حاصل کرنے اور رمضان و فسح کے دوران جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق، اس تجویز کے تحت حماس کو پہلے دن کم از کم پانچ زندہ قیدیوں اور تقریباً نو جاں بحق قیدیوں کی باقیات حوالے کرنی ہوں گی۔ جبکہ ابتدائی امریکی تجویز، جو دو ہفتے قبل دی گئی تھی، میں دس زندہ قیدیوں اور 18 جاں بحق قیدیوں کی رہائی شامل تھی۔
تجدید شدہ منصوبے کے مطابق، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور حماس جنگ بندی میں توسیع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ میں طویل المدتی جنگ بندی پر مذاکرات کریں گے۔ اگر اس معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو آخری دن باقی تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا، جس کے بعد مستقل جنگ بندی عمل میں لائی جائے گی۔
ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے وِٹکوف کو مثبت جواب دیا ہے۔ قطر اور مصر کے ثالثوں نے بدھ کی شام دوحہ میں حماس کے نمائندوں سے ملاقات کی اور انہیں یہ نئی تجویز پیش کی۔ تین ذرائع کے مطابق، ثالث اب حماس کے جواب کے منتظر ہیں۔ ایک ذریعے نے کہا، "حماس نے ماضی میں ایسی تجاویز کو مسترد کیا ہے، لیکن وہ رمضان کے دوران جنگ میں واپسی سے بچنا چاہتی ہے۔”
وِٹکوف منگل کی شام دوحہ پہنچے، جہاں انہوں نے قطری اور مصری ثالثوں، نیز غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے مذاکرات کاروں سے ملاقاتیں کیں، جو اس وقت دوحہ میں موجود ہیں۔ بدھ کو قطر، مصر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ اور تنظیم آزادیٔ فلسطین (PLO) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری جنرل نے وِٹکوف سے ملاقات کی۔ اس اجلاس میں غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا گیا۔