(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غاصب صیہونی فوج نے غزہ میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جسے وہ حماس سے منسوب کرتا ہے، اور ساتھ ہی حکومتی و بلدیاتی دفاتر پر بھی حملے کیے۔ یہ حملے اس نسل کش جنگ کے تسلسل میں کیے گئے ہیں، جس کا مقصد دانستہ طور پر حماس کی سول قیادت کو نشانہ بنانا ہے تاکہ تنظیم کی انتظامی صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔ قابض ریاست نے سحری کے وقت کو دھوکہ دہی کے طور پر استعمال کیا تاکہ اچانک حملہ کیا جا سکے۔
عبرانی اخبار ہارٹز نے قابض ریاست کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ نیتن یاہو، جو غاصب صیہونی حکومت کا سربراہ ہے، غزہ میں جنگی حکمت عملی تبدیل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ اس کے مطابق، اب اسرائیل کو صرف عسکری قیادت نہیں بلکہ حماس کی سول قیادت کو بھی نشانہ بنانا چاہیے۔ اس حکمت عملی کا مقصد حماس کی حکومتی صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے۔ قابض ریاست کی حکومت کو امید ہے کہ حماس کی شہری انتظامیہ کو کمزور کرنے کے بعد، غزہ میں مسلح گروہ (جنہیں اسرائیل "قبیلے” قرار دیتا ہے) حماس کی جگہ لے سکتے ہیں۔
ہارٹز کے مطابق، قابض فوج آئندہ مرحلے میں مزید شدید فضائی حملے کر سکتی ہے، اور آرمی چیف ایال ضمیر نے ایک بڑے زمینی آپریشن کا عندیہ دیا ہے۔ ان حملوں کا مقصد اس بار حماس کو مکمل شکست دینا ہے۔ اس منصوبے پر قابض فوج کی مختلف یونٹوں کو شامل کرنے پر بات ہو رہی ہے، جس کے لیے دوبارہ بڑی تعداد میں ریزرو فوج کو متحرک کرنا پڑے گا۔ تاہم، اسرائیلی عوام میں اس جنگ کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے، اور اس سلسلے میں کوئی قومی اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب، عبرانی اخبار معاریف نے اطلاع دی کہ آج صبح کے حملے میں قابض فوج اور شاباک (اسرائیلی انٹیلی جنس) نے ایک "چالاکی” کا مظاہرہ کیا۔ ان کا مقصد ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ حماس کے افراد کو نشانہ بنانا تھا۔ چونکہ رمضان کے دنوں میں غزہ کے معمولاتِ زندگی تبدیل ہو چکے تھے، اس لیے قابض ریاست نے اس موقع کو استعمال کیا۔
شاباک اور فوجی انٹیلی جنس نے وہ مقامات طے کیے تھے، جہاں حماس کے اراکین سحری کے وقت موجود ہو سکتے تھے۔ اس کے بعد، قابض فضائیہ اور ڈرون یونٹ نے درجنوں طیاروں کے ذریعے ایک ہی وقت میں سینکڑوں بم گرائے۔ یہ حملہ بالکل 2:20 بجے کیا گیا، جس کی نگرانی آرمی چیف ایال ضمیر، فضائیہ کے سربراہ تومر بار، اور شاباک کے ڈائریکٹر رونین بار کر رہے تھے۔ حملے سے قبل شاباک نے ان مقامات کی تصدیق کی تھی کہ وہاں حماس کے اراکین موجود ہیں۔
یہ کارروائیاں نہ صرف غزہ کے عوام کے خلاف جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں بلکہ یہ ثابت کرتی ہیں کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کسی بھی جنگ بندی کے عہد کو سنجیدگی سے نہیں لیتی اور فلسطینی عوام کی نسل کشی جاری رکھنے پر تُلی ہوئی ہے۔