(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے متعدد فوجی حکام نے غزہ کے خلاف دوبارہ جنگ شروع ہونے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ "موجودہ فوجی دباؤ مطلوبہ صیہونی نتائج حاصل نہیں کر سکتا، جن میں غزہ سے صیہونی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔”
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل غیورا عنبر نے صیہونی چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کو "صیہونیوں اور ان کے فوجیوں کے ساتھ غداری” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تین نقصانات ہوں گے: "اول، اس سے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی قیدیوں کو واپس لانے کی ناکامی کو مزید نمایاں کیا جائے گا۔ دوم، اس سے حماس کے خاتمے میں مدد نہیں ملے گی۔ اور آخر میں، یہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی قیادت کی ساکھ کو اس کے عوام کے سامنے نقصان پہنچائے گا۔”
"ہم حماس کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھ سکے”
دوسری جانب، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فضائیہ کے انٹیلیجنس یونٹ کے سابق سربراہ، ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل رام شموئیلی نے صیہونی چینل 12 کو بتایا کہ "غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل گزشتہ چند ہفتوں کے دوران غزہ سے کسی بھی قیدی کو واپس لانے میں ناکام رہی ہے، کیونکہ مذاکرات میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "تقریباً ڈیڑھ سال سے جاری جنگ کے باوجود، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل حماس کی نقل و حرکت کو واضح طور پر سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔”
شموئیلی کے مطابق، "فضائی فوجی دباؤ کے استعمال پر انحصار یقینی حل نہیں ہے، اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو دیگر طریقے استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں۔”
"فوجی دباؤ حماس کے مؤقف میں تبدیلی نہیں لا سکتا”
اسی حوالے سے، صیہونی چینل 12 کے عسکری تجزیہ کار اوہاد حمو نے کہا کہ "فوجی دباؤ شاید حماس کو اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور نہ کر سکے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "ثالثوں کی جانب سے سخت مذمت کی جا رہی ہے، مصر نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کا ذکر کیا ہے، جو سیاسی حل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔”
آج صبح امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیےگئے بیان میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے دو حکام نے انکشاف کیا کہ آج منگل کو غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کیے گئے حملے دراصل ایک مذاکراتی حربہ تھے، تاکہ مذاکرات میں حماس پر دباؤ ڈالا جا سکے۔