(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیل کی جانب سے غزہ میں خوراک کی ترسیل معطل کردی گئی ہے جس کے نتیجے میں اسرائیلی دہشتگردی کے شکار غزہ میں خوراک کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ کچھ بیکریاں بند ہو چکی ہیں اور خوراک کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جبکہ بجلی کی معطلی کی وجہ سے پینے کے پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق، اسرائیل نے یہ اقدام جنگ بندی مذاکرات میں حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا ہے، جس کے تحت خوراک، ادویات اور ایندھن کی ترسیل روک دی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے UNRWA نے خبردار کیا ہے کہ انسانی امداد کی معطلی سے غزہ کے عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں، جو پہلے ہی 17 ماہ کی "وحشیانہ” جنگ سے متاثر ہیں۔ حماس نے اس اقدام کو "اجتماعی سزا” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں آ کر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرے گی۔
غزہ بیکری یونین کے سربراہ عبد الناصر العجرمی نے بتایا کہ علاقے میں موجود 22 بیکریوں میں سے چھ پہلے ہی گیس کی قلت کے باعث بند ہو چکی ہیں۔ باقی بچی ہوئی بیکریاں بھی اگر ڈیزل یا آٹے کی فراہمی نہ ہوئی تو ایک ہفتے کے اندر بند ہو جائیں گی۔
اسرائیل کی جانب سے خوراک اور ایندھن کی ترسیل معطل ہونے سے غزہ میں حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے لاکھوں شہریوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ غزہ میں بیکریاں بند ہو رہی ہیں، خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اور بجلی کی کٹوتی کے باعث پینے کا پانی ناپید ہو رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر توانائی نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کو بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف پانی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے بلکہ نکاسیٔ آب کے نظام کے مفلوج ہونے سے غزہ میں گندے پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر سکتا ہے، جو ماحولیاتی اور صحت کے بڑے خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔
غزہ میں 19 جنوری سے جنگ بندی نافذ ہے، لیکن اسرائیل اور حماس کے درمیان وسیع تر معاہدے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ عرب ممالک مصر اور قطر جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر بات چیت کے لیے سرگرم ہیں، لیکن صیہونی ریاست کا مطالبہ ہے کہ حماس پہلے باقی یرغمالیوں کو رہا کرے۔ دوسری جانب، حماس کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کو ان کے پہلے سے طے شدہ فریم ورک کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔