(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک سینئر رہنما نے عربی نیوز ویب سائٹ”العربی الجدید” کو بتایا کہ غزہ پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایک قیدی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، یہ حملہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے اور دوبارہ جارحیت کے آغاز کے بعد کیا گیا۔
حماس رہنما نے گفتگو میں کہا کہ یہی وہ خطرہ تھا جس کے بارے میں مزاحمت پہلے ہی خبردار کر چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ قیدی صرف مذاکرات کے ذریعے ہی رہا ہو سکتے ہیں، اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اصل مقصد ان قیدیوں سے جان چھڑانا ہے، کیونکہ وہ سیاسی ذرائع سے انہیں آزاد کروانے میں ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے جنگ بندی کے معاہدے پر مثبت انداز میں عمل کیا اور تمام وعدے پورے کیے، لیکن غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے، امریکی حمایت کے ساتھ، معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔
حماس کے اس رہنما نے انکشاف کیا کہ تنظیم نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی آدم بوہلر کی اس تجویز کو قبول کیا تھا، جس کے تحت ایک اسرائیلی-امریکی قیدی اور چار دوہری شہریت رکھنے والے قیدیوں کی لاشوں کو رہا کیا جانا تھا، تاکہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی راہ ہموار ہو سکے۔ تاہم، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
بعد میں، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے ایک اور تجویز پیش کی، جس میں نصف زندہ قیدیوں اور نصف ہلاک اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے 50 دن کی جنگ بندی کی پیشکش کی گئی، لیکن امریکا نے دوسرے مرحلے کو اس تجویز کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔
حماس کے رہنما نے کہا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور امریکا شروع سے ہی دھوکہ دے رہے تھے۔ ان کا مقصد پہلے قیدیوں کو حماس سے چھین لینا تھا، تاکہ بعد میں اس پر دباؤ ڈال کر اس کے ہتھیار چھین لیے جائیں۔ لیکن مزاحمت نے اس امریکی-صیہونی حکمت عملی کا مقابلہ کیا اور قیدیوں کے معاملے پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
قیدیوں کے اہلِ خانہ کا احتجاج
آج (منگل) کے روز، اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ کے فورم نے غزہ میں جنگ کے دوبارہ آغاز پر ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا:*”ہمارا سب سے بڑا خوف حقیقت بن گیا ہے۔ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی حکومت نے ہمارے پیاروں کو چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں شدید صدمہ، غصہ اور مایوسی ہے کہ مذاکراتی عمل کو جان بوجھ کر سبوتاژ کیا گیا، جو کہ ہمارے پیاروں کی بازیابی کے لیے جاری تھا۔”
بیان میں مزید کہا گیا: "جنگ کا دوبارہ آغاز، ان 59 قیدیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دے گا، جو اب بھی غزہ میں ہیں اور جنہیں بچایا جا سکتا تھا۔”
حماس کا ردِعمل
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اتوار کی شام امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا اعلان کردہ قیدیوں کے تبادلے کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے۔ "العربی الجدید” سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ "یہ مذاکرات دائیں بازو کی اسرائیلی حکومت کے سخت موقف کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔ نیتن یاہو کی اصل پریشانی اس کے حکومتی اتحاد کا بکھر جانا ہے، کیونکہ اگر جنگ بندی پر عمل کیا گیا تو اس کے دائیں بازو کے اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا: "اصل اور مثبت راستہ یہ ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل کرے۔”