(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی چینل 13 کے مطابق، قیدیوں اور لاپتہ افراد کے امور کے رابطہ کار کی قیادت میں مذاکراتی وفد جزوی مینڈیٹ کے ساتھ قاہرہ روانہ ہو گیا ہے۔ وفد صرف معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے تسلسل پر بات کرے گا، جب کہ دوسرے مرحلے پر کوئی گفتگو نہیں کی جائے گی۔
دو روز قبل، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل پر دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں تاخیر برتنے کا الزام عائد کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابض ریاست ثالثوں کی نگرانی میں ہونے والے اس معاہدے کی پاسداری کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ قابض ریاست کی یہ تاخیری حکمت عملی "جنگی مجرم نیتن یاہو کی ان ناپاک نیتوں کو بے نقاب کرتی ہے، جن کے تحت وہ معاہدے اور قیدیوں کے تبادلے میں رکاوٹ ڈالنے کے ساتھ ساتھ جارحیت کی طرف واپسی اور مزید نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کرنا چاہتا ہے۔”