(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، بدھ کے روز غزہ شہر کے وسط میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے مقام پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے فضائی حملے میں ایک غیر ملکی شہری جاں بحق اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج، جس نے غزہ پر دوبارہ دہشتگردانہ کارروائیاں شروع کر دی ہے اور شہریوں کو جنگی علاقوں سے انخلا کے نئے احکامات جاری کیے ہیں، نے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر حملے کی تردید کی ہے۔
صیہونی فوج نے نیٹزاریم کوریڈور پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے، جس سے غزہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی۔ گزشتہ ماہ یہ علاقہ جنگ بندی معاہدے کے تحت خالی کر دیا گیا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، منگل کی علی الصبح غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی بمباری کے آغاز سے اب تک کم از کم 436 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 183 بچے شامل ہیں۔
حماس کے ایک عہدیدار طاہر النونو کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے باوجود تنظیم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ جب ایک معاہدہ پہلے ہی موجود ہے تو نئے معاہدے کی ضرورت نہیں۔
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ تازہ بمباری "محض آغاز” ہے اور جنگ بندی سے متعلق تمام مذاکرات اب "گولیوں کی گھن گرج میں” ہوں گے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی غزہ پر دہشتگردی میں اب تک 49,547 فلسطینی شہید اور 112,719 زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ کی گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق، تازہ ترین اعداد و شمار کے تحت شہدا کی تعداد 61,700 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ہزاروں فلسطینی ملبے تلے دبے ہونے کے باعث مردہ تصور کیے جا رہے ہیں۔
حماس کی قیادت میں 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملوں میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل میں کم از کم 1,139 افراد ہلاک اور 200 سے زائد افراد کو قیدی بنا لیا گیا تھا