(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیرِ خارجہ ، یسرائیل کاٹز نے غزہ کے فلسطینیوں کو مزید نسل کشی کی دھمکی دی اور کہا کہ "آنے والا وقت بہت زیادہ سخت ہوگا”۔
منگل کی صبح سے غزہ پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اچانک دہشتگردانہ حملے تیز کر دیے، جس میں شدید بمباری اور ڈرونز کے زریعے فائرنگ شامل ہے جو براہ راست عام شہریوں کو نشانہ بناتے رہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، بدھ تک ان حملوں میں 436 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 678 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
عبرانی میڈیا، بشمول سرکاری نشریاتی ادارے، پر نشر کیے گئے ایک ٹیلیویژن خطاب میں کاٹز نے کہا: "غزہ کے رہائشیو، یہ تمہارے لیے آخری انتباہی پیغام ہے۔” اس نے مزید کہا: "حماس کے مسلح جنگجوؤں پر فضائی حملے صرف پہلا قدم تھے، آنے والا وقت کہیں زیادہ سخت ہوگا اور تمہیں اس کی پوری قیمت چکانی پڑے گی۔”
کاٹز نے مزید دھمکی دیتے ہوئے کہا: "جلد ہی فلسطینیوں کو لڑائی کے علاقوں سے دوبارہ بےدخل کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔”
قبل ازیں، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ قابض فوج کی جانب سے منگل کی صبح کیے گئے فضائی حملے "محض آغاز” تھے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ "حماس کی جانب سے تمام تجاویز کو مسترد کیے جانے کے بعد کیا گیا”۔ اس نے مزید کہا: "اب سے مذاکرات گولیوں کی گھن گرج میں ہوں گے۔”
نیتن یاہو نے جھوٹا دعویٰ کیا: "ہم نے اپنے یرغمالیوں کی واپسی کے واحد مقصد کے تحت کئی ہفتوں تک کام کیا۔ ہم نے فائر بندی کو کئی ہفتوں تک طول دیا، وفود بھیجے، ثالثوں کے ذریعے تجاویز دیں، اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجویز پر بھی رضامندی ظاہر کی۔”
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ فوجی دباؤ "ناگزیر” ہے تاکہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی واپسی کو یقینی بنایا جا سکے، اور اس نے اعلان کیا: "ہم جنگ کے تمام مقاصد کے حصول تک لڑائی جاری رکھیں گے۔ غزہ اب غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں رہے گا۔”
عرب اور عالمی سطح پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی غزہ پر دوبارہ جنگ مسلط کرنے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، اور فوری طور پر جنگ بندی کی بحالی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اس "تباہ کن بمباری اور قتل و غارت گری کی مہم” کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جس سے جنوری میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں طے شدہ نازک جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
اسی دوران، دنیا بھر کے کئی شہروں اور دارالحکومتوں میں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں جنگ بندی اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی بند کرنے کے مطالبات کیے گئے۔