(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جیل انتظامیہ ہفتے کے روز حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے تحت ایک نئی کھیپ میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
آج بدھ کو غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے فوجی ریڈیو نے اطلاع دی کہ معاہدے کے تحت 628 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جن میں 50 قیدی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، 47 وہ ہیں جو پہلے "وفاء الاحرار” معاہدے کے تحت رہا ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار کیے گئے، جبکہ 445 قیدی غزہ پر اسرائیلی جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔
مزاحمتی تحریک کا جواب
فلسطینیوں کی رہائی کے بعد فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس جمعرات کو چار اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں حوالے کرے گی، جبکہ ہفتے کے روز چھ زندہ قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
فلسطینی اسلامی جہاد کی عسکری شاخ سرايا القدس نے آج اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی یرغمالی عودید لیفشٹز کی باقیات جمعرات کو حوالے کرے گی۔ اسی طرح، کتائب المجاہدین کے ترجمان ابو بلال نے اعلان کیا کہ وہ بیباس خاندان کی لاشیں جمعرات کو حوالے کریں گے، جو قیدیوں کے تبادلے کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔
القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے تصدیق کی کہ”بیباس خاندان کی لاشیں اور قیدی عودید لیفشٹز کی باقیات جمعرات کے روز حوالے کی جائیں گی۔ یہ قیدی اس وقت زندہ تھے جب غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے طیاروں نے دانستہ طور پر ان کی حراستی جگہوں پر بمباری کی۔”
صیہونی وزیراعظم نتنیاہو کا ردِعمل
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ جمعرات کا دن اسرائیل کے لیے "انتہائی تکلیف دہ دن” ہوگا، کیونکہ چار اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس لائی جا رہی ہیں۔
غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کوششیں
تقریباً دو ہفتے قبل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں کو غزہ سے دوسرے ممالک میں زبردستی منتقل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، حالانکہ متعدد اسرائیلی اور بین الاقوامی حلقے اس منصوبے کی ناکامی کی پیش گوئی کر چکے ہیں۔
آج بدھ کو عبرانی چینل 12 نے اطلاع دی کہ اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسیاں پہلے سے ایک "رضاکارانہ ہجرت” کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، جس میں مرحلہ وار جبری نقل مکانی کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
نسل کشی اور جبری ہجرت کا منصوبہ
حالیہ مہینوں میں عبرانی میڈیا میں اس معاملے پر تواتر سے بحث ہو رہی ہے، جبکہ موجودہ جنگ کے آغاز (7 اکتوبر 2023) کے بعد سے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے کئی حکومتی وزراء اور حکام فلسطینیوں کی نسل کشی اور جبری نقل مکانی کی وکالت کر رہے ہیں۔
اسرائیل میں استعماری حلقوں نے ایسی متعدد کانفرنسیں منعقد کیں، جن میں وزراء اور کنسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے ارکان نے شرکت کی اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی حمایت کی۔
ٹرمپ کا منصوبہ اور اسرائیل کی حکمتِ عملی
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی حکومت نے ٹرمپ کے منصوبے کو اپنا لیا ہے، اور نیتن یاہو نے اس کی حمایت کا اعلان بھی کر دیا ہے، مگر تاحال کوئی ملک فلسطینی مہاجرین کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک جامع منصوبے کی تیاری کے لیے احکامات جاری کیے ہیں، تاکہ جبری بے دخلی کو "رضاکارانہ ہجرت” کا نام دے کر عالمی سطح پر جنگی جرائم کے الزامات سے بچا جا سکے۔