فلسطینی مزاحمتی تحریک (روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل جان بوجھ کر حالات کو پوائنٹ زیرو پر واپس لے جانے اور غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آج (پیر) کے روز اپنے پریس بیان میں انھوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود صیہونی ریاست اور اس کے جنگی مجرم وزیراعظم نیتن یاہو ایک بار پھر فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت پر اتر آئے ہیں۔ غاصب حکومت جنگ بندی معاہدے کے خاتمے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ غزہ میں قتلِ عام کے لیے نیا جواز پیدا کیا جا سکے۔ قابض ریاست معاہدے سے فرار ہونے کے لیے کھلی کوششیں کر رہی ہے، اور اسی مقصد کے تحت دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے۔
اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت
حمدان نے کہا کہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے قابض اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست ایک ایسا نیا معاہدہ چاہتی ہے جو پہلے سے طے شدہ تمام امور سے متصادم ہو۔
حماس کے رہنما نے زور دے کر کہا کہ ان کی تحریک جنگ بندی معاہدے کو آگے بڑھانے اور دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے پرعزم ہے۔
اسامہ حمدان نے کہا کہ "جنگی مجرم نیتن یاہو اور ان کی حکومت معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔ ہم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی جانب سے انسانی امداد کو بلیک میلنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔”
انہوں نے قابض اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی، جن میں شامل ہیں:
معاہدے کے مطابق روزانہ 50 ایندھن کے ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی تھی، لیکن 42 دنوں میں صرف 23 ٹرک روزانہ کی اوسط سے غزہ پہنچے، جن کی مجموعی تعداد 978 ٹرک بنی۔
معاہدے میں واضح الفاظ میں تجارتی بنیادوں پر ایندھن درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن صیہونی حکومت نے تجارتی شعبے کے لیے ایندھن کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔
غزہ میں صرف محدود تعداد میں خیمے داخل کیے گئے، جب کہ فوری طور پر 60,000 خیموں اور ہزاروں شیلٹرز کی ضرورت ہے۔
ملبہ ہٹانے اور شہداء کی لاشیں نکالنے کے لیے درکار 500 بھاری مشینوں اور گاڑیوں میں سے صرف 9 کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔
حماس کے رہنما نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور فلسطینی عوام کے خلاف اپنی جارحیت بند کرے۔