(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ پر صیہونی دہشتگردی اور نہتے شہریوں کی نسل کشی کے عروج پر، اور حماس کے رہنماؤں کے خلاف غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد، جس میں خاص طور پر اس کے سیاسی دفتر کے قائدین، شہید اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ السنوار شامل تھے، حماس نے ایک عبوری انتظامی کمیٹی تشکیل دی، جس میں پانچ ارکان خالد مشعل، خلیل الحیہ، زاہر جبارین، محمد درویش، اور نزار العوض اللہ شامل ہیں۔
صیہونی ریاست کی عبرانی نیوز ویب سائٹ یدیعوت احرنوت میں شائع ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ نئی قیادت غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جو تنظیم کے نئے ڈھانچے کی سرگرمیوں کی زمہ دار اور حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے نئے سربراہ شہید یحی السنور کے بھائی محمد السنوار کے ساتھ مل کر فیصلے کرتی ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق، اکتوبر/نومبر میں، جب شہید السنوار کو قتل کر دیا گیا، کمیٹی نے ان کے جانشین کے تقرر کے لیے اجلاس کیا، لیکن بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ نئی قیادت کے انتخاب تک پانج رکنی عارضی کمیٹی تنظیم کا انتظام سنبھالے گی۔ اگرچہ مارچ میں انتخابات کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا یہ انتخابات ہوں گے یا نہیں۔ ویب سائٹ نے "غزہ میں موجود ذرائع” کے حوالے سے بتایا کہ اگر انتخابات منعقد ہوئے تو حماس اپنے نئے قائد کا انتخاب غزہ سے باہر کرے گی۔
رپورٹ میں نزار العوض اللہ کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو حماس کے اندر ایک نہایت اہم شخصیت ہیں، اور خاص طور پر قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے خفیہ مذاکرات میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ عرب میڈیا ذرائع کے مطابق، العوض اللہ مذاکرات میں ایک "خفیہ شخصیت” کے طور پر سرگرم ہیں، جبکہ خلیل الحیہ مذاکراتی وفد میں سب سے زیادہ نمایاں شخصیت ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، العوض اللہ کو بعض اوقات "وفد کے سربراہ” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ الحیہ میڈیا میں مذاکرات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 2021 کے اندرونی انتخابات میں، العوض اللہ حماس کی قیادت کے لیے امیدوار تھے، مگر دوسرے مرحلے میں شہید السنوار سے معمولی فرق سے ہار گئے۔ اسی بنیاد پر انہیں حماس کی مقبول ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
"علامتی عہدہ” اور ایران کے ساتھ تعلقات
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسماعیل درویش، جو "ابو عمر حسن” کے نام سے معروف ہیں، حماس کی مجلس شوریٰ اور "سیاسی مشن” کی قیادت کرتے ہیں، جو ایران اور ترکی جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات استوار رکھتا ہے۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ درویش ایک "اتحادی علامت” ہیں، لیکن کرشماتی قیادت کی کمی کے باعث انہیں علامتی کردار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، خالد مشعل، جو حماس کے سینئر رہنماؤں میں شامل ہیں، فی الحال کوئی نمایاں عہدہ نہیں رکھتے، کیونکہ وہ شہید السنوار کے قریب نہیں سمجھے جاتے تھے اور غزہ میں حماس کی قیادت انہیں زیادہ قبول نہیں کرتی تھی۔ یہاں تک کہ ہنیہ اور السنوار کی شہادت کے بعد، جب انہیں متبادل کے طور پر پیش کیا گیا، تو حماس کے کارکنوں اور اعلیٰ عہدیداروں نے انہیں زیادہ پذیرائی نہیں دی۔
حماس کی بیرونی قیادت، جن میں زاہر جبارین شامل ہیں، اب تنظیم کی سرگرمیوں میں زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہے، خاص طور پر جب تنظیم کے کئی بڑے رہنما شہید کر دیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت حماس کی قیادت ایک متنوع اور محدود گروپ کے ذریعے ہو رہی ہے، جو مقامی اور بیرونی رہنماؤں پر مشتمل ہے، اور جلد ہی ایک باضابطہ قائد کے انتخاب کا امکان ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق، زاہر جبارین تنظیم کی مالیات کے انچارج ہیں اور ایران کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں، جو حماس کے لیے مالی وسائل کا اہم ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ مغربی کنارے کے امور کے بھی ذمہ دار ہیں، خاص طور پر صالح العاروری کی شہادت کے بعد۔
السنوار کا جانشین اور "شہداء کی روح”
ویب سائٹ "یدیعوت احرنوت” کے مطابق، محمد السنوار حماس کے عسکری ونگ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اور وہ القسام بریگیڈز کی صفوں کی دوبارہ تنظیم نو میں مصروف ہیں۔ وہ ان صیہونی قیدیوں کے بھی نگران ہیں جو اب تک غزہ میں موجود ہیں۔
محمد السنوار، جو ستمبر 1975 میں خان یونس میں پیدا ہوئے، "سایہ” کے لقب سے مشہور ہیں۔ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل انہیں 2005 میں "غوش قطیف” میں مزاحمتی کارروائیوں، اسی سال اسرائیلی فوجی گلعاد شالیت کے اغوا، اور "سایہ یونٹ” کی تشکیل کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، جو قیدیوں کو حراست میں رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ وہ زیرِ زمین سرنگوں کی تعمیر میں بھی شامل رہے اور اکتوبر 2023 میں "طوفان الاقصیٰ” آپریشن کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا۔
ایک اور اہم شخصیت عزالدین حداد ہیں، جنہیں غزہ میں "شہداء القسام کی روح” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہ القسام کے عسکری ونگ کے سینئر رہنما اور عسکری کونسل کے رکن ہیں۔ وہ غزہ بریگیڈ کی کمان سنبھالتے رہے اور ان کے تحت کئی یونٹس، بشمول "ایلیٹ یونٹ”، نے "طوفان الاقصیٰ” آپریشن میں قیادت کی۔ حداد غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے کئی قاتلانہ حملوں میں معجزانہ طور پر بچ چکے ہیں۔