مشرق وسطیٰ کے لیے روس کے خصوصی ایلچی میخائل بوگڈانوف نے اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کےسیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے حماس اور الفتح کے درمیان قومی مفاہمت کے سمجھوتے پر مبارک باد پیش کی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق روسی مندوب نے جمعہ کے روز خالد مشعل سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے فلسطینی جماعتوں کے درمیان طے پائے مفاہمتی سمجھوتے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فلسطینی دھڑوں میں مفاہمت کاعمل دیر پا ثابت ہو گا اور اس سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی راہیں ہموار ہوں گی۔
اس موقع پر حماس کے لیڈر خالد مشعل نے بھی فلسطینی جماعتوں کے ارکان کے دورہ غزہ اور حماس کےساتھ مفاہمت کا سمجھوتہ کرنے کی مساعی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی صفوں میں اتحاد وقت کا تقاضا ہے۔ حماس اس مقصد کے لیے پہلےبھی کوششیں کرتی آئی ہے۔
قبل ازیں روسی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان طے پائے مفاہمتی معاہدے کی حمایت کی گئی تھی اور اسرائیل اور امریکا سمیت بعض ملکوں کی طرف سے فلسطینیوں کی مفاہمت پر ناراضگی کو مسترد کر دیا تھا۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فلسطینیوں کو مرضی کی سیاست کاحق ملنا چاہیے۔ اس سلسلے میں کسی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
