حماس: یمن پر قابض فوجی حملہ عرب خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے
حماس نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ اس فاشسٹ جارحیت کا بنیادی مقصد یمن کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت سے دستبردار ہو جائے۔
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی "دہشت گردانہ بربریت” کے تحت یمن پر حملہ اور وہاں شہری علاقوں کو نشانہ بنانا عرب ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریحً خلاف ورزی ہے۔
حماس نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ اس فاشسٹ جارحیت کا بنیادی مقصد یمن کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت سے دستبردار ہو جائے۔
حماس نے عرب اور اسلامی دنیا سے فوری اور واضح مؤقف اختیار کرنے کی اپیل کی تاکہ یمن کی حمایت کی جائے اور فلسطینی عوام کے حق میں قابض ریاست کی وحشیانہ جارحیت اور استعماری عزائم کے سامنے کھڑا ہوا جا سکے۔ تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ یہ خاص طور پر اس وقت ضروری ہے جب جنگی مجرم بنجمن نیتن یاہو نے کھلے عام ناجائز گریٹر اسرائیل کے حصول کے خواب کا اظہار کیا ہے جو عرب علاقوں کی قیمت پر ہی ممکن ہے۔
حماس نے یمن کے عوام، انصار اللہ اور یمنی مسلح افواج کے جرأت مندانہ مؤقف کو سراہا جنہوں نے بارہا اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھیں گے اور قابض صیہونی ریاست کی بربریت کے سامنے ثابت قدم رہیں گے۔
حماس نے عرب اور اسلامی ممالک سمیت تمام حریت پسند قوتوں سے اپیل کی کہ وہ اس مقدس جدوجہد میں شامل ہوں تاکہ قابض دشمن کو شکست دی جا سکے، ہمارے مقدس مقامات کو آزاد کرایا جا سکے اور تمام عرب علاقوں کو قابض ریاست کے تسلط سے آزاد کرایا جا سکے۔