(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ برائے یرغمالیوں، ایڈم بوہلر، نے کہا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل میں قید افراد کی رہائی کے سلسلے میں حماس کے ساتھ ہونے والی امریکی ملاقاتیں "بہت مفید” ثابت ہوئی ہیں، اور انہوں نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ مستقبل میں مزید ملاقاتیں ہو سکتی ہیں۔
بوہلر نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ کے معاملے پر آئندہ چند ہفتوں میں کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس دوران، حماس کے زیر انتظام الاقصیٰ ٹی وی نے آج (اتوار) حماس کے رہنما طاہر النونو کے حوالے سے بتایا کہ حماس نے امریکی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ امریکی-اسرائیلی دوہری شہریت رکھنے والے قیدی عیدان الیگزینڈر کی رہائی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ یہ مذاکرات غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہوں۔
طاہر النونو نے رائٹرز کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "دوحہ میں متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جن میں ایک دوہری شہریت رکھنے والے قیدی کی رہائی پر بات چیت کی گئی۔ ہم نے اس معاملے میں مثبت اور لچکدار رویہ اختیار کیا، جو فلسطینی عوام کے مفاد میں ہے۔”
اس سے قبل، العربی جدید کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حماس کے ایک سینئر رہنما نے انکشاف کیا تھا کہ یہ براہِ راست مذاکرات ایڈم بوہلر کی شرکت کے ساتھ اس وقت شروع ہوئے جب دو ہفتے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ خیر سگالی کے طور پر امریکی شہریت رکھنے والے قیدیوں کو رہا کرے۔
امریکی ویب سائٹ Axios نے گزشتہ بدھ کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور حماس کے درمیان غیر معمولی اور براہِ راست مذاکرات پچھلے کچھ ہفتوں کے دوران ہوئے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا نے حماس کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی ہے، کیونکہ واشنگٹن 1997 سے حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا آیا ہے۔
امریکا اور حماس کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو مجبور کر دیا کہ وہ ایک وفد دوحہ بھیجیں تاکہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل ان امریکی مذاکرات سے ناخوش تھی، کیونکہ انہیں ان مذاکرات کا علم دیگر ذرائع سے ہوا، اور تب تک یہ عمل خاصا آگے بڑھ چکا تھا۔
عبرانی ویب سائٹ واينت کے مطابق، امریکا اور حماس کے درمیان چار براہِ راست ملاقاتیں ہو چکی ہیں، اور امریکیوں نے ایک جزوی معاہدے کی پیشکش کی تھی، جس کے تحت ایک اسرائیلی-امریکی قیدی اور چار قیدیوں کی لاشیں رہا کی جاتیں۔
اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ بوہلر اور امریکی حکام نے حماس سے ایک اور معاہدے پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس کے تحت 10 قیدیوں کی رہائی کے بدلے 60 دن کی جنگ بندی کی جائے گی۔