(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ایک نئی دور کی بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے، اور تنظیم اس معاملے کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔
حماس کے رہنما عبد الرحمن شدید نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تنظیم امریکی ایلچی برائے یرغمالی امور، آدم بولر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو مثبت انداز میں لے رہی ہے اور امید کرتی ہے کہ یہ مذاکرات ایک ٹھوس پیش رفت کا باعث بنیں گے، جس سے جارحیت کا خاتمہ، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج کا انخلا، اور قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کو عملی جامہ پہنایا جا سکے گا۔
شدید نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ کی مسلسل ناکہ بندی کی مذمت کی، جس میں رفح کراسنگ کی بندش اور انسانی امداد و غذائی سامان کی ترسیل پر پابندی شامل ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے مسلسل دسویں دن بھی غزہ میں بجلی کی فراہمی منقطع کر رکھی ہے، جسے بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو اور اس کی انتہا پسند حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ رفح گذرگاہ کھولے جائیں اور امدادی سامان غزہ میں داخل ہونے دیا جائے۔
انھوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے رمضان المبارک کے دوران مغربی کنارے کے مختلف شہروں، دیہاتوں، اور مہاجر کیمپوں پر جارحانہ حملے کیے ہیں اور مغربی کنارے میں 2684 نئی غیر قانونی صیہونی بستیاں تعمیر کرنے کے منصوبے بنائے ہیں۔ جنین میں قابض فوج کی کارروائی 51 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے، جب کہ طولکرم میں بھی 43 دن سے مسلسل حملے جاری ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی کنارے اور القدس میں صیہونی جارحیت کے پیچھے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی حکومت کے وہ عزائم کارفرما ہیں، جن کے تحت وہ فلسطینی علاقوں کو ضم کرکے وہاں کی آبادی کو بے دخل کرنا چاہتی ہے اور مقبوضہ بیت المقدس کے تاریخی و جغرافیائی تشخص کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے امریکا کو ان مظالم کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ واشنگٹن کی غیر مشروط حمایت ہی اسرائیلی حکومت کو فلسطینی عوام کے قتل عام اور ان کے جبری انخلا پر اکساتی ہے۔