(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی صحافی اور کالم نگار گیڈعون لیوی نے کہا ہے کہ "غزہ میں 17 مہینے تک جاری خونریزی، دسیوں ہزار فلسطینیوں کی شہادت، سینکڑوں صیہونی فوجیوں کی ہلاکت، اور عالمی جنگ دوم میں جرمنی کے شہر ڈریسڈن کی طرز پر تباہی کے باوجود، حماس اب بھی غزہ میں برقرار ہے”۔
انہوں نے عبرانی اخبار "ہآرتس” میں شائع شدہ اپنے مضمون میں لکھا کہ "جو کچھ 17 مہینوں میں حاصل نہیں ہوسکا، وہ مزید 17 مہینوں میں بھی حاصل نہیں ہوگا، اور جو بات غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی تاریخ کی سب سے وحشیانہ طاقت سے ممکن نہ ہوسکی، وہ مزید وحشی قوت کے استعمال سے بھی حاصل نہیں کی جا سکتی”۔
انہوں نے مزید کہا: "حماس برقرار ہے، اگرچہ اسے فوجی نقصان پہنچا ہے، لیکن وہ نظریاتی اور سیاسی طور پر مضبوط ہو چکی ہے۔ یہ جنگ نہ صرف اس کی طاقت کو کمزور کرنے میں ناکام رہی بلکہ اس نے فلسطینی کاز کو دوبارہ زندہ کر دیا، جسے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور دنیا بھلانا چاہتے تھے۔ حماس برقرار ہے، اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اس حقیقت کو نہیں بدل سکتی”۔
لیوی نے نشاندہی کی کہ "اسرائیل کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ غزہ میں کوئی اور حکومتی نظام مسلط کر سکے، نہ صرف اس لیے کہ ایسا کوئی متبادل دستیاب نہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ہر آمریت کی ایک حد ہوتی ہے۔ اسرائیل کسی دوسری قوم کی حکومت کو تبدیل نہیں کر سکتا، جیسے امریکہ ماضی میں ایسا کر چکا ہے”۔
انہوں نے "حماس کے بعد کے دن” کے بارے میں اسرائیلی بیانیے کو "دھوکہ دہی” قرار دیتے ہوئے کہا: "حماس کے بعد کوئی دن نہیں ہے، اور غالباً مستقبل قریب میں ایسا کچھ ہونے والا بھی نہیں۔ حماس غزہ کی واحد حکمران جماعت ہے، اور موجودہ حالات میں جو بمشکل بدلے جا سکتے ہیں، ’اگلا دن‘ بھی حماس کے ساتھ ہوگا، اور ہمیں اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا”۔
لیوی نے کہا کہ "اس جنگ کے جاری رہنے کا کوئی جواز نہیں، کیونکہ اس کا نتیجہ مزید فلسطینی شہادتوں اور اسرائیلی قیدیوں کی ہلاکت کی صورت میں نکلے گا، اور آخرکار، حماس تب بھی باقی رہے گی۔ یہی حقیقت ایک موقع فراہم کرتی ہے، اگر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور امریکہ اس حقیقت کو سمجھ سکیں کہ حماس ایک مضبوط تنظیم ہے اور اس کا کوئی متبادل نہیں”۔
انہوں نے اس خیال کو بھی مسترد کر دیا کہ غزہ پر حکمرانی کسی اور کے سپرد کی جا سکتی ہے، اور کہا: "قبائلی حکمرانی، فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیلی ٹینکوں پر بٹھا کر غزہ میں لانا، یا ٹیکنوکریٹس کی حکومت جیسے خیالات محض خیالی پلاؤ ہیں”۔
لیوی نے واضح طور پر کہا: "غزہ کا حکمران یا تو حماس ہوگی یا اس کی منظوری سے کوئی ہوگا۔ اگر حماس محمد دحلان کی قیادت کو مسترد کر دے، تو وہ بھی غزہ میں نہیں آ سکتا، اور جو فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں دم توڑ رہی ہے، وہ غزہ میں آکر زندہ نہیں ہو سکتی”۔
انہوں نے مزید کہا: "چاہے ہمیں یہ پسند ہو یا نہ ہو، اور شاید ہمیں یہ پسند نہ آئے، لیکن حماس ہی میدان کی اصل قوت ہے۔ یہ حقیقت امید افزا نہیں، لیکن ہمیں اپنی طاقت کی حدود کو سمجھنا ہوگا، جو غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور امریکہ کے لیے ایک مشکل کام ہے۔ حماس کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ایک اور جنگ چھیڑنے اور اس بے معنی پروپیگنڈے کو دہرانے کے بجائے، ہمیں اس کی موجودگی کو قبول کرنا ہوگا، اور اس سے بات چیت کرنی ہوگی، خاص طور پر 7 اکتوبر کے بعد”۔
انہوں نے مزید کہا: "ہم نے حماس سے کافی انتقام لے لیا، اور اس کے کئی رہنما مارے جا چکے ہیں۔ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے 17 مہینے تک حماس سے بالواسطہ مذاکرات کیے، اور امریکہ نے اس سے براہ راست بات چیت کی، اور آسمان نہیں گرا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں معاہدے ہوئے، جن پر حماس نے مکمل عمل کیا، جو اس کی طاقت اور قابلِ بھروسہ ہونے کا ثبوت ہے۔ اگر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل بھی اپنے وعدوں پر قائم رہتی، تو آج ہم جنگ بندی کے دوسرے یا تیسرے مرحلے میں ہوتے”۔
لیوی نے آخر میں کہا: "اگر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل میں کوئی ایسا سیاستدان ہوتا، جو بصیرت اور جرات رکھتا، تو وہ حماس سے براہ راست اور کھلے عام بات کرنے کی کوشش کرتا، چاہے وہ غزہ میں ہو یا القدس میں۔ ہم نے جرمنی کو معاف کر دیا، اور ہم حماس کو بھی معاف کر سکتے ہیں۔ اگر اس وقت حماس میں کوئی جرات مند رہنما ہے، تو ہمیں اسے مذاکرات کے چیلنج کا سامنا کرانا چاہیے، کیونکہ یہ دیوانگی سے بھرپور ایک اور بمباری اور راکٹوں کے تبادلے سے کم نقصان دہ ہوگا”۔