(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے آج (اتوار) کے روز اعلان کیا کہ اس نے غزہ کے انتظام کے لیے آزاد قومی شخصیات پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کر لیا ہے، جو انتخابات کے انعقاد تک عبوری طور پر کام کرے گی۔
حماس نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات "فوری طور پر” شروع کیے جائیں۔
بیان کے مطابق، حماس کے وفد نے قاہرہ میں مصری خفیہ ایجنسی کے سربراہ حسن محمود رشاد سے ملاقات کی، جس میں غزہ میں جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے، اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے تمام مراحل پر گفتگو کی گئی۔
حماس کی قیادت نے مصری حکومت کی سابقہ کوششوں، خصوصاً جبری ہجرت کے منصوبوں کی مخالفت میں کردار، عرب لیگ کے اجلاس کے نتائج، غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے، اور فلسطینی عوام کے مسلمہ حقوق پر زور دینے پر شکریہ ادا کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حماس کے وفد نے جنگ بندی معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا، مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے فوری آغاز، سرحدی گزرگاہوں کو کھولنے، اور کسی بھی شرط کے بغیر امدادی سامان کی غزہ میں فراہمی کا مطالبہ کیا۔
حماس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ ایک "سماجی حمایت کمیٹی” کے قیام پر متفق ہے، جو آزاد قومی شخصیات پر مشتمل ہوگی اور فلسطینی قومی معاملات کے مکمل انتظام اور صدارتی و پارلیمانی انتخابات کے انعقاد تک غزہ کے عبوری انتظام کی ذمہ دار ہوگی۔
دوسری جانب، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ہفتے کی شام ان رپورٹس کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ رمضان المبارک کے دوران حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔