(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی مزاحمتی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے بین الاقوامی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں قابض صیہونی ریاست کے جرائم کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کے حوالے سے اپنی خاموشی توڑیں۔ یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں قابض افواج کے ہاتھوں ہونے والی نسل کشی کے ناقابلِ تردید شواہد فراہم کیے گئے ہیں۔
حماس نے جمعرات کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں فلسطینی علاقوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، جبری حراست، تشدد اور جنسی زیادتی جیسے مظالم کو تفصیل سے دستاویز کیا گیا ہے، جو قابض حکومت کی بربریت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
حماس نے واضح کیا کہ غزہ میں صیہونی افواج نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ رپورٹ نے اس حقیقت کو آشکار کیا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت، جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب ہے، نے نہ صرف صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں کو تباہ کیا بلکہ غزہ کا مکمل محاصرہ کر کے خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی روکی، جو کہ جنگی جرائم اور نسل کشی کے مترادف ہے۔
حماس نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے ان وحشیانہ مظالم کو مزید نظرانداز نہ کریں اور صیہونی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں۔
بیان کے آخر میں حماس نے بین الاقوامی عدالت انصاف، بین الاقوامی فوجداری عدالت اور دنیا بھر کے عدالتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مندرجات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے قابض حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنائیں۔