اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کےنائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے ایک مرتبہ پھر تمام فلسطینی دھڑوں سے قومی مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مفاہمتی بات چیت وہیں سے پھر شروع کی جائے جہاں ختم ہوئی تھی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس رہ نما نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ "فیس بک” کے اپنے خصوصی صفحے پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کی قیادت کی جانب سے مسلسل یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ مفاہمتی کمیٹی بات چیت میں قومی حکومت کے قیام، انتخابات کے شیڈول اور دیگر اہم قومی ایشوز پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے اور غزہ کی جانب سے مفاہمتی عمل میں تعاون نہیں کیا جا رہا ہے۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ قومی مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے قاہرہ اور دوحہ میں ہونے والے مفاہمتی معاہدوں کو سامنے رکھا جائے اور بات چیت وہیں سے پھر شروع کی جائے جہاں تعطل کا شکار ہوئی تھی۔
ابو مرزوق کا کہنا ہے کہ مفاہمتی کمیٹی کے ایجنڈے میں انتخابات کا اعلان کرنا اور قومی حکومت کی تشکیل جیسے معاملات شامل نہیں تھے۔ یہ کام تنظیم آزادی فلسطین کے پلیٹ فارم سے ہونا ہے۔ مفاہمتی کمیٹی تنظیم آزادی فلسطین کو فعال کرنے، فلسطینی شہروں بالخصوص مغربی کنارے میں شہری آزادیوں اور سیاسی کارکنوں کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کو یقینی بنانے اور مشترکہ سیکیورٹی فورسز کی تشکیل جیسے معاملات کو دیکھ رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ فتح کے بعض رہ نماؤں نے یہ اعتراض کیا کہ حماس صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے بجائے سیاسی گرفتاریوں کی روک تھام پر توجہ مرکوز کر کے مفاہمت میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرر ہی ہے۔ میں یہ واضح کر رہا ہوں مفاہمت کو عملی شکل دینے کے لیے سازگار ماحول اور فضاء کا ہونا ناگزیر ہے۔ جب حالات سازگارہوں گے۔ شہریوں کو سیاسی آزادیاں حاصل ہوں گی تب ہی انتخابات بھی کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن موجودہ سیاسی گھٹن کی فضاء میں بات چیت تو ہوسکتی ہے مفاہمت نہیں ہوسکتی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
