(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان عبد اللطیف القانوع نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے اسرائیلی-امریکی فوجی عیدان الیگزینڈر کی رہائی پر آمادگی، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے تمام مراحل کے نفاذ کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
حماس نے آج اعلان میں ثالثوں کی جانب سے دیے گئے ایک نئی تجویز پر اپنا جواب جمع کرایا ہے، جس میں عیدان الیگزینڈر کی رہائی کے ساتھ ساتھ چار دیگر دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی لاشوں کی حوالگی بھی شامل ہے۔ القانوع نے کہا کہ "ثالث بھرپور کوششیں کر رہے ہیں کہ ایک معاہدہ طے پاجائے، باوجود اس کے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل معاہدے کو مسترد کرنے اور اس سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہی ہے”۔
حماس کے ترجمان نے زور دیا کہ قابض حکومت کے صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو کی معاہدے کو ناکام بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی معاہدے کے تینوں مراحل پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
القانوع نے مزید کہا کہ حماس ثالثوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل جنگ بندی کے تینوں مراحل پر عمل کرے، جس میں مکمل انخلا، مستقل فائر بندی، اور جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو شامل ہیں۔
دوسری جانب، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل مسلسل دوسرے ہفتے غزہ کی گزرگاہوں کو بند رکھے ہوئے ہے، جس سے فلسطینی عوام خوراک، ادویات، اور پینے کے پانی جیسے بنیادی ضروریات سے محروم ہو رہے ہیں، جب کہ روزانہ کے بنیاد پر قتل و غارت گری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اسلامی جہاد کا ردعمل
دوسری جانب، اسلامی جہاد کے نائب سیکرٹری جنرل محمد الهندي نے کہا کہ حماس کی جانب سے عیدان الیگزینڈر اور چار لاشوں کی رہائی پر آمادگی ایک مشترکہ نقطہ نظر کا نتیجہ ہے، تاکہ قابض دشمن کو ایک نیا مذاکراتی ماحول پیدا کرنے کی اجازت نہ دی جائے، بلکہ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ہندی نے مزید کہا کہ قابض دشمن کی جانب سے مزاحمتی قوتوں کو بلیک میل کرنے، دھمکیاں دینے، حملے جاری رکھنے اور غزہ کا محاصرہ مزید سخت کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی، کیونکہ وہ اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے مزاحمت پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے، بغیر اس معاہدے پر عمل کیے جس پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔
دوحہ میں جاری مذاکرات
ہندی کے مطابق، دوحہ میں گزشتہ دو دنوں میں حماس اور دیگر مزاحمتی قوتوں کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں تاکہ جنگ بندی معاہدے پر پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔
گزشتہ روز حماس نے اعلان کیا کہ اس کے قیادت کونسل کے سربراہ محمد درویش نے اسلامی جہاد کے جنرل سیکریٹری زیاد النخالہ اور ان کے نائب ڈاکٹر محمد الهندي سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں اور معاہدے کے نفاذ پر بات چیت کی گئی۔
بیان کے مطابق، اجلاس میں تمام فریقین نے زور دیا کہ جنگ بندی معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل کیا جائے، جس میں خاص طور پر صلاح الدین محور (فیلادلفیا روڈ) سے قابض فوج کے انخلا، غزہ کی گزرگاہوں کو کھولنے، اور تمام انسانی ضروریات کی فراہمی شامل ہے۔
جنگ بندی کے بعد بھی جاری قتل عام
سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں 140 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے کئی افراد فضائی حملوں، گولیوں اور اسنائپر فائرنگ کا نشانہ بنے۔
دوحہ میں جاری مذاکرات میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کا وفد بھی شریک ہے، جبکہ امریکی صدر کے مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندہ اسٹیو وٹکوف بھی مذاکرات میں شامل ہیں، تاکہ معاہدے کے نفاذ کو مکمل کیا جا سکے اور فریقین کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے راضی کیا جا سکے۔