(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی اتھارٹی کی ایک سیکیورٹی فورس نے پیر کی شام جنین بریگیڈ کے نمایاں مزاحمتی جنگجو عبد الرحمن ابو المنى کو شہید کر دیا۔
جنین بریگیڈ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، فلسطینی اتھارٹی کی فورسز، جو عام شہری گاڑیوں میں سوار تھیں، نے عبد الرحمن ابو المنى کا راستہ روک کر ان پر براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ جنین شہر کے دوار النسیم کے قریب شہید ہو گئے۔
ابو المنى، جنہیں "دیناين” کے لقب سے جانے جاتے تھے، گزشتہ دو سالوں کے دوران غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی قابض افواج کے خلاف مسلح جھڑپوں میں سرگرم مزاحمت کاروں میں شامل تھے۔
فلسطینی سیکیورٹی فورسز کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل انور رجب نے دعویٰ کیا کہ عبد الرحمن ابو المنى "قانون سے فرار” اور "فلسطینی سیکیورٹی اداروں کو مطلوب” تھے۔ ان کے مطابق، جب سیکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی، تو انہوں نے فورسز پر فائرنگ کی، جس کے بعد انہیں گولی مار دی گئی اور بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
رجب نے مزید الزام عائد کیا کہ شہید عبد الرحمن ابو المنى جنین میں سیکیورٹی اداروں کے دفاتر اور راہ چلتی فورسز پر فائرنگ میں ملوث تھے۔
دوسری جانب، حماس نے عبد الرحمن ابو المنى کی شہادت کی شدید مذمت کی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی قابض افواج جنین شہر اور اس کے مہاجر کیمپ پر پچھلے 50 دنوں سے وحشیانہ حملے کر رہی ہیں۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا: "فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہمارے عوام اور مزاحمت کاروں کو براہ راست نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، اور آج جو سنگین جرم ہم نے دیکھا، جس میں عبد الرحمن ابو المنى کو شہید کر دیا گیا، یہ فلسطینی خون بہانے کے رجحان میں ایک خطرناک اضافہ اور فلسطینی اتھارٹی کی جابرانہ پالیسی کا تسلسل ہے، جس کی وجہ سے درجنوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔”
حماس نے مزید کہا: "ہم شہید عبد الرحمن ابو المنى کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور فلسطینی اتھارٹی کی ان جرائم کے تسلسل کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہیں، جو فلسطینی قومی اور سماجی صورتحال پر خطرناک اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔”