(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ ایک صیہونی وفد نے اتوار کی شام قاہرہ میں مصری حکام سے ملاقات کی تاکہ غزہ میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اتوار کے روز حماس کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی میں توسیع سے متعلق امریکی تجویز پر دیے گئے رد کو "ناقابل قبول” قرار دیا، حالانکہ حماس نے گزشتہ جمعرات کو ثالثوں کی ایک تجویز کو قبول کیا تھا، جس میں ایک اسرائیلی-امریکی فوجی اور چار دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی لاشوں کی رہائی شامل تھی۔ یہ اقدام معاہدے کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی بحالی کے لیے کیا گیا تھا، جسے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے توڑا تھا۔
ہفتے کے روز، نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ صیہونی وزیر اعظم نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجویز پر ثالثوں کے ردعمل کے مطابق غزہ مذاکرات کی بحالی کے لیے تیاری کریں۔ بیان کے مطابق، نیتن یاہو نے ہفتے کی شام وزراء، مذاکراتی ٹیم اور سیکیورٹی اداروں کے سربراہان کے ساتھ ایک تفصیلی اجلاس کیا، جس میں یرغمالیوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ "مذاکرات کے اختتام پر، وزیر اعظم نے مذاکراتی ٹیم کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر 11 زندہ قیدیوں اور نصف لاشوں کی رہائی پر مبنی وٹکوف کی تجویز کے مطابق بات چیت کی بحالی کی تیاری کریں۔”
ہفتے کے روز ہی، نیتن یاہو نے اپنے وزارتی سیکیورٹی کابینہ (کابنیٹ) کا اجلاس طلب کیا، جس میں وزراء اور سیکیورٹی اداروں کے سربراہان شامل تھے، تاکہ قیدیوں کے تبادلے کے اگلے مرحلے پر فیصلے کیے جاسکیں۔
ادھر، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے چینل 12 اور دیگر عبرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، وٹکوف کی تجویز میں پانچ زندہ قیدیوں کی رہائی شامل ہے، جن میں امریکی-اسرائیلی شہری عیدان الیگزینڈر اور دس مقتول افراد کی لاشیں شامل ہیں۔ اس کے بدلے میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اور 42 سے 50 دن کے لیے فوجی کارروائیاں روک دی جائیں گی، جس دوران جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔