(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی تنظیم نے آج ہفتے کے روز صیہونی ریاست کے دار الحکومت تل ابیب میں وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کے سامنے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا، جس کا نعرہ ہے: "ہم اپنے قیدیوں کو ایک ہی بار میں واپس چاہتے ہیں!”
تنظیم نے واضح کیا ہے کہ وہ صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو کو موجودہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ساتھ ہی خبردار کیا کہ غزہ کی سرنگوں کو قبرستان میں تبدیل کرنا ان کے بیٹوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس وقت کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تو زندہ قیدی سرنگوں میں ہلاک ہوسکتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ان کی لاشیں بھی واپس لینا ممکن نہیں رہے گا۔
قبل ازیں، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے کہا تھا:”حکومت عوام سے جھوٹ نہیں بول سکتی۔ جنگ میں واپسی کا مطلب ہے کہ ہمارے قیدی مر جائیں گے۔ جنگ دوبارہ شروع کرنے سے پہلے ہمیں جاننا ہوگا کہ اس کا مقصد کیا ہے؟ 15 ماہ کی جنگ کے بعد ہم غزہ میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ہمارے پاس اس جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے کون سے وسائل ہیں؟ جنگ کے بعد غزہ پر کس کا کنٹرول ہوگا؟ تعمیر نو کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اور انسانی امداد کی تقسیم کیسے کی جائے گی؟”
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے ایک امریکی نژاد اسرائیلی فوجی اور چار دوہری شہریت رکھنے والے قیدیوں کی لاشیں حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ساتھ ہی، حماس نے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے ثالثوں کی تجویز پر مثبت اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی یقین دہانی کرائی ہے، اور کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہے۔