اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے رہ نما ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ صہیونی فوج کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال اور صہیونی کینسر کی فتنہ سامانیوں کے باوجود انتفاضہ القدس قابض ریاست کے خلاف جھاڑو پھیر دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوم نے مسلح
مزاحمت کاراستہ اپنا کر دشمن کے ساتھ جاری نام نہاد سیکیورٹی تعاون کا فلسفہ مسترد کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائیٹ”فیس بک” پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں ڈاکٹر ابو مرزوق نے کہا کہ ‘انتفاضہ القدس’ نے فلسطینی قوم کو ایک فورم پر متحد کردیا ہے۔ موجودہ حالات قومی وحدت کا تقاضا کرتے ہیں اور قوم کے تمام دھاروں نے وسیع تر قومی مفاد کی خاطر حقیقی قومی شراکت کی طرف پیش قدمی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘انتفاضہ القدس’ کی صورت میں فلسطینی عوام بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں مگر یہ قربانیاں رنگ لائیں گی۔ ناپاک صہیونیوں کے ہاتھوں قبلہ اوّل کی بے حرمتی کا باب بند ہونے کے ساتھ مسجد اقصیٰ کی زمانی اور مکانی تقسیم کی سازشیں بھی بری طرح ناکام ہوجائیں گی۔ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ انتفاضہ القدس کے نتیجے میں فلسطین بھر میں پھیلنے والا یہودی آباد کاری کا کینسربھی ختم ہوگا اور فلسطینیوں کو دیوار سے لگانے اور ان کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی سازشیں ختم ہوں گی۔
حماس رہ نماء نے کہا کہ ستمبر کے آخر میں کئی روز تک جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری رہا۔ مگر سوائےقطر کے کسی ملک کی جانب سے فلسطینیوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی ہمت نہیں کی گئی۔ عالمی برادری بالخصوص مسلم امہ کی طرف سے اس قدر مجرمانہ غفلت نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو ایک نیا موقع اور سند جواز فراہم کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی عوام نہتے ہونے کے باوجود دشمن کے خلاف صف آرا ہوگئے ہیں۔
