رپورٹ کے مطابق حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل تمام امیدوار اپنی جیت کی خاطر فلسطینیوں کے قتل عام کی حمایت کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے کہ امریکا میں صدارتی انتخابات جیتنا اسرائیل کی طرف داری، صہیونی ریاست کی مظالم کی حمایت اور فلسطینیوں کے خون بہانےکی حمایت کے سوا اور کچھ نہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدارتی امیدوار کھلے عام جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور اسلامی شعائر کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ امریکی صدارتی امیدواروں کا موجودہ منفی رویہ عالم اسلام کو مشتعل کرنے کے مترادف ہے۔
خیال رہےکہ گذشتہ روز امریکی صدارتی امیدواروں نے یہودی لابی کے زیراہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صہیونی ریاست کی تعریف توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے تھے۔
ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے تو یہاں تک کہا تھا کہ وہ امریکا کے صدر منتخب ہوکر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیں گے اور تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کریں گے۔
مسٹر ٹرمپ نے خود کو اسرائیل کا سب سے بڑا اور جگری دوست قرار دیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ ہرایک سے پہلے اسرائیل کی حمایت میں میں خود کھڑا ہوں گا۔
ری پبلیکن کے دوسرے امیدوار مارکو روبیو نے بھی اسرائیلی کی کھل کرحمایت کی اور فلسطینیوں کو دہشت گرد اور قاتل قرار دیا۔ ڈیموکریٹس کی صدارتی امیدوار ہیلری کلٹن کا لہجہ بھی دوسرے امیدواروں سے مختلف نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں اسرائیل کے دفاع کے عہد کا اعلان کیا۔
