(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) عبرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے امریکی ایلچی آدم بوہلر کو اسرائیلی قیدیوں کے معاملے کی نگرانی سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ان کے متعدد بیانات کے بعد سامنے آیا، جو انہوں نے امریکی اور اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں دیے تھے۔
رپورٹس کے مطابق، بوہلر نے جب حماس کی "انسانیت” کا ذکر کیا تو اسرائیلی حکام شدید ناراض ہوگئے، جس کے بعد امریکی انتظامیہ نے انہیں اس حساس معاملے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔
اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت” نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی انتظامیہ نے اسرائیلی حکام کو مطلع کیا ہے کہ بوہلر اب حماس کے پاس موجود اسرائیلی قیدیوں کے معاملے کی نگرانی نہیں کریں گے، تاہم اس فیصلے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
اسی طرح، اخبار "ٹائمز آف اسرائیل” نے اطلاع دی کہ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب بوہلر نے متعدد "غیر منظم” انٹرویوز دیے، جن میں انہوں نے اپنی کوششوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، بوہلر نے حال ہی میں دوحہ میں حماس کے حکام سے براہ راست بات چیت کی، جس کا اسرائیل کو علم نہیں تھا، اور اس انکشاف پر اسرائیلی حکام سخت نالاں ہوئے۔
مزید برآں، انہوں نے غزہ میں زندہ بچ جانے والے واحد امریکی قیدی کا نام غلط لے لیا، جس سے ان کے خلاف مزید تنقید بڑھ گئی۔ امریکی حکام نے ان کے بیانات کو "غیر مؤثر” قرار دیا، جبکہ ایک سینیٹر نے انہیں "خیالی دنیا میں رہنے والا شخص” کہہ دیا۔
اسرائیلی وزیر برائے اسٹریٹجک امور رون ڈیرمر نے بوہلر کے ساتھ ایک سخت لہجے والی فون کال کی، جبکہ انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئل سموترچ نے ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات "اسرائیل کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں”۔
شدید دباؤ کے بعد، بوہلر نے اپنے بیانات سے پسپائی اختیار کرلی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ حماس ایک "دہشت گرد تنظیم” ہے جس نے ہزاروں بے گناہوں کو قتل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر حماس نے فوری طور پر تمام یرغمالیوں کو رہا نہ کیا، تو اس کا کوئی بھی رکن محفوظ نہیں ہوگا”۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ 51 سالہ بوہلر ایک امریکی یہودی اور اسرائیل کا حامی ہے۔ اسے تقریباً تین ماہ قبل اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، اور اس نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔