اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے مرکزی رہ نما اور سابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں بعض امور پر حماس اور الفتح کے درمیان معمولی نوعیت کے اختلافات پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل فلسطین میں قومی مفاہمت کو ناکام بنانے کی سازشیں کرتے رہے ہیں لیکن فلسطینیوں نے صہیونی۔ امریکی گٹھ جوڑ کے تحت ہونے والی سازشوں کو بری طرح ناکام بنا دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالا ت کا اظہار جمعہ کے اجتماع اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاہمت کے متنازعہ ایشوز پر حماس اور الفتح کی قیادت کا چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر رابطہ ہے اور ہم اختلافی مسائل کے حل میں جلد کامیاب ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کی تمام جماعتیں قومی مفامت کی قیمت کو جانتی ہیں۔ اس لیے اس موقع کو کسی صورت میں ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ فلسطین میں وجود میں آنے والی قومی حکومت عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے، جس میں تمام فلسطینی قومی دھڑوں کو ان کی حیثیت کے مطابق نمائندگی دی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو پریشان ہونے اور قومی مفاہمت کے تحت بننے والی حکومت کے حوالے سے خدشات ظاہر کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ ہم ماضی کے ناکام تجربات کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
