(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی، اسٹیو وٹیکوف، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے درمیان ایک نئے معاہدے کی ثالثی کی کوشش کے لئے منگل کی شام دوحہ پہنچیں گے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا وٹیکوف براہ راست حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے یا صرف صیہونی مذاکرات کاروں، قطری اور مصری ثالثوں سے ملاقات کریں گے۔
ایک اعلیٰ صیہونی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا کہ وٹیکوف تمام فریقین کو ایک جگہ جمع کر کے کئی دن کی گہری مذاکراتی نشستیں منعقد کرنا چاہتے ہیں تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
یہ مذاکراتی دور ٹرمپ کے منصب سنبھالنے کے بعد پہلا ہوگا اور اس کے بعد آیا ہے جب 42 دن کے فائر بندی معاہدے پر اتفاق ہوا تھا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں 33 قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ یہ مرحلہ ایک ہفتہ قبل مکمل ہو چکا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے معاہدے پر زور دے رہی ہے جس کے نتیجے میں تمام باقی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو، جنگ بندی رمضان المبارک اور صیہونی عید الفصح کے بعد بھی جاری رہے، اور ایک طویل مدتی جنگ بندی ہو جو غزہ پر مسلط جنگ کے خاتمے کا سبب بنے۔
ہفتے کے روز قاہرہ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک وفد نے مصری انٹیلی جنس کے سربراہ، جنرل حسن رشاد، سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں غزہ میں فائر بندی کے معاہدے کے نفاذ اور قیدیوں کے تبادلے کے مختلف مراحل پر گفتگو کی گئی۔
حماس نے اتوار کی صبح اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری ایک بیان میں کہا کہ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ فائر بندی کے تمام نکات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، فائر بندی کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات فوری طور پر شروع کیے جائیں، اور بغیر کسی شرط کے امدادی سامان کی غزہ میں رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
حماس کے بیان کے مطابق، وفد نے ایک آزاد قومی شخصیات پر مشتمل "سپورٹ کمیٹی” کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا ہے، جو فلسطینی داخلی امور کے مکمل انتظام اور عام انتخابات کے انعقاد تک غزہ کے معاملات چلائے گی۔
حماس نے عرب سربراہی اجلاس کے نتائج کو سراہا، خاص طور پر غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کی توثیق کو خوش آئند قرار دیا۔