اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے مرکزی رہ نما اور رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اسرائیل کو تسلیم کرے گی اور نہ ہی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق کے حصول کے لیے مسلح مزاحمت کا راستہ چھوڑے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی کوئی قوت ہمیں اپنے حقوق کے معاملے میں بلیک میل نہیں کرسکتی ہے۔
حماس رہ نما الشیخ حسن یوسف نے ان خیالات کا اظہار آسٹرین وزیرخارجہ اسپسٹین کورٹیز کی جانب سے کیے گئے اس مطالبے کے جواب میں کیا ہے جس میں انہوں نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی ریاست کے وجود کو تسلیم کرلے۔
مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے الشیخ یوسف نے کہا ہے کہ حماس کے دو بنیادی اصول ہیں۔ وہ یہ کہ اسرائیلی ریاست کے ناپاک وجود کو کسی قیمت پر تسلیم نہیں کیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ قومی حقوق کے حصول کے لیے مسلح مزاحمت ترک نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کئی ممالک فلسطین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ میں ان ممالک کی ہر نوعیت کی مداخلت کو مسترد کرتا ہوں۔ ہمیں کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی ریاست ہمیں بلیک میل کر کے قومی حقوق سے پیچھے ہٹا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ کل بدھ کو آسٹرین وزیرخارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حماس اور الفتح نے قومی مفاہمت کے لیے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ اب حماس کو چاہیے کہ وہ مسلح جدو جہد ترک کرکے اور اسرائیل کو آئینی ریاست تسلیم کرتے ہوئے جمہوری راستہ اختیار کرے۔
حماس رہ نما الشیخ حسن یوسف نے آسٹرین وزیرخارجہ کے بیان کو فلسطین کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
