مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس رہ نما نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ”فیس بک” پر پوسٹ ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی جارحیت کی روک تھام کے لیے جس جرات اور مزاحمت کی ضرورت ہے، فلسطینی قوم کو اپنے اندر اسے پیدا کرنا اور ان تمام وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے جن کی مدد سے صہیونی ریاست کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کی روک تھام کی جا سکے۔
ابو مرزوق کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں میں اسرائیل کے دفاع کے لیے پیسہ خرچ کر رہی ہے۔ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو عالمی اداروں سے رجوع کےاعلان سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے کیونکہ عالمی سفارت کاری کے میدان میں ہمارے پاس اس سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ لیکن امریکا نے فلسطینیوں کو عالمی اداروں سے رجوع سے روکنے کے لیے ایک مرتبہ پھر نام نہاد امن مذاکرات کا بے مقصد کھیل شروع کیا ہے۔ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔
ابو مرزوق کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کا اجماع اس بات پر ہے کہ صہیونی ریاست کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ ختم کر دیا جائے اور صہیونی ریاست کے جبرکے خلاف مسلح مزاحمت کی راہ اختیار کی جائے۔
اسرائیل نے نوماہ تک امریکا کی نگرانی میں فلسطینیوں سے جھوٹ بولا۔ فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کا وعدہ اور ایک سو چار فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا گیا مگر نہ تو یہودی بستیوں کی تعمیر بند ہوئی اور نہ ہی فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ یہ محض جھوٹ تھا۔
