(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے آج (اتوار) اعلان کیا کہ انہوں نے غزہ کو بجلی کی فراہمی فوری طور پر منقطع کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ہفتہ بعد سامنے آیا ہے جب غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے تباہ حال غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل پر پابندی لگا دی تھی۔
ایلی کوہن نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا: "میں نے ابھی ایک حکم پر دستخط کیا ہے، جس کے تحت غزہ کو بجلی کی فراہمی فوری طور پر بند کر دی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا: "ہم اپنے یرغمالیوں کی بازیابی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ طریقہ استعمال کریں گے کہ جنگ کے بعد غزہ میں حماس کا کوئی وجود نہ رہے۔”
اس سے قبل، اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی کہ وزیر توانائی نے غزہ کی بجلی مکمل طور پر کاٹنے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی چینل 12 نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی کہ امدادی سامان کی ترسیل پر پابندی کے بعد اسرائیل کا اگلا اقدام غزہ کی پانی کی سپلائی کو مکمل طور پر بند کرنا ہوگا۔
یہ تمام اقدامات اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مزاحمت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کے طور پر کیے جا رہے ہیں، تاکہ حماس کو جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ قیدیوں کے تبادلے کے پہلے مرحلے کو جتنا ممکن ہو طول دیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرایا جا سکے، جبکہ وہ اس کے بدلے کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے برعکس، حماس نے اسرائیل کے اس رویے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی تمام شرائط پر عمل کرے اور فوراً دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع کیے جائیں، جس میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے مکمل انخلا اور جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہو۔
دوسری جانب، اسرائیل کی جانب سے امدادی سامان، خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل پر پابندی نے غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ وزارت سماجی امور غزہ کے مطابق، 2.4 ملین فلسطینی صرف امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔ حماس نے اسرائیل کے اس اقدام کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ محاصرہ اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے اس جرم کو روکا جا سکے۔
اسی دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں۔ بدھ کے روز، ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر حماس نے یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو ان کے تمام جنگجوؤں کو مار دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک بیان میں کہا: "حماس کو فوراً تمام یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا اور جو مر چکے ہیں ان کی لاشیں واپس کرنی ہوں گی، ورنہ ان کا خاتمہ یقینی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ نے اسرائیل کو "حماس کے خلاف مشن مکمل کرنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔”
اسی تناظر میں، اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل سموتریچ نے اعلان کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ کے شہریوں کو دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کا متنازعہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں خطاب کرتے ہوئے سموتریچ نے کہا: "یہ منصوبہ اب حقیقت بننے کے قریب ہے، اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے آگے بڑھ رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں مختلف ممالک کے ساتھ مذاکرات شامل ہیں، تاکہ ان کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے تعاون حاصل کیا جا سکے۔
سموتریچ نے اعتراف کیا کہ اس منصوبے کو نافذ کرنے میں بہت سی مشکلات درپیش ہوں گی اور اس میں "بہت زیادہ وقت” لگ سکتا ہے، لیکن انہوں نے اسے مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے لیے "تاریخی تبدیلی” قرار دیا۔
گزشتہ ہفتے عرب ممالک نے ایک منصوبہ منظور کیا تھا، جس میں فلسطینیوں کو بےدخل کرنے کے بجائے غزہ کی تعمیر نو پر زور دیا گیا تھا۔ یہ اقدام ٹرمپ کے متنازعہ منصوبے کے خلاف ایک واضح موقف تھا۔ عرب ممالک کے اس منصوبے کو یورپی ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، لیکن غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور امریکہ نے اسے مسترد کر دیا۔
امریکی مشرق وسطیٰ کے ایلچی، اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ "مزید بحث کی ضرورت ہے، لیکن مصر کی جانب سے یہ ایک اچھا پہلا قدم ہے۔” دوسری جانب، وزیر خزانہ سموتریچ نے ٹرمپ کے منصوبے کو "تنازع کے خاتمے کا سنہری موقع” قرار دیا اور کہا: "ہم گزشتہ 76 سال سے اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اب جب ہمارے پاس ٹرمپ انتظامیہ جیسی اتحادی ہے، تو ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔”