رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی شعبے کے سینیر رکن عزت الرشق نے دوحہ میں اپنے ایک بیان میں ابراہیم محمد دوابشہ نامی فلسطینی کے مکان کو نذرآتش کیے جانے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ابراہیم کے مکان اور ان کے پورے خاندان کوآگ میں جلانے کی اسرائیلی سازش کے پیچھے ان عناصر کا ہاتھ ہے جو گذشتہ برس سعد دوابشہ اور ان کے بچوں کے زندہ جلائے جانے کے ہولناک واقعے کے حقائق چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں دوما کے مقام پر نامعلوم شرپسندوں نے ابراہیم محمد دوابشہ نامی ایک فلسطینی شہری کو آگ لگا دی تھی جس کے میں ابراہیم جھلس کر زخمی ہوگیا تاہم گھر کے دیگر افراد نے اپنی جانیں بچالی تھیں۔
ابراہیم دوابشہ گذشتہ برس اسی مقام پر یہودی شرپسندوں کے ہاتھوں زندہ جلائے گئے سعد دوابشہ اور ان کے خاندان کونذرآتش کیے جانے کا اکلوتا عینی شاہد ہے۔ انتہا پسند یہودی ابراہیم کوبھی سعد دوابشہ اور ان کے خاندان کےانجام سے دوچار کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔
حماس رہنما عزت الرشق نے کہا کہ انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے صرف ابراہیم دوابشہ کا مکان نذرآتش نہیں کیا گیا بلکہ اس گھناؤنی سازش کے تحت دوابشہ خاندان کے وحشیانہ قتل کے حقائق کو چھپانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب اسرائیلی فوج اور خفیہ ادارے ’’شاباک‘‘ نے سعد دوابشہ خاندان کے زندہ جلائے جانے کے واقعے کی تحقیقات میڈیا سے چھپا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ اسرائیل حقائق دنیا کے سامنے لانے سے خوف زدہ ہے۔
ادھر حماس کے ایک دوسرے رہنما فازع صوافطہ کا کہنا ہے کہ ابراہیم دوابشہ کے مکان کو جلائے جانے کی کوشش فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ کے سامنے صہیونیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بزدل صہیونی فلسطینی عوام کی تحریک انتفاضہ سے خوف زدہ ہونے کے بعد عام شہریوں کے گھروں پر رات کے اندھیروں میں چھپ کر حملے کرنے لگے ہیں۔
