مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عبرانی اخبار”یدیعوت احرونوت” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنے دو مقتول فوجیوں ھدار گولڈن اور ارون شائول کی باقیات واپس لینے کا خواہش مند ہے اور اس نے مصر کے ذریعے حماس کے ساتھ ان کی ڈیل کی بھی کوشش کی ہے۔
اخبار نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے مصری حکام تک یہ پیغام پہنچایا تھا کہ وہ حماس کو کہیں کہ ہمارے دو فوجیوں ھدار گولڈن اور شائول کی میتیں ہمارے حوالے کردے۔ ہم اس کے بدلے میں بیس فلسطینی شہداء کی میتیں اور 2014 ء کی جنگ میں حراست میں لیے گئے تمام فلسطینیوں کی رہائی پر تیار ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کو دی گئی پیش کش ابھی تک زیرغور ہے تاہم دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ وہ مردہ اور زندہ اسرائیلیوں کی الگ الگ ڈیل کرے گی۔ حماس کی جانب سے جوابی پیغام میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ھدار گولڈل اور شائول کی باقیات کو غزہ کی پٹی میں زندہ صہیونیوں کے ایشو کے ساتھ نہ جوڑے بلکہ دونوں کو الگ الگ ڈیل کرے۔
حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو پہلے سنہ 2014 ء کی جنگ میں حراست میں لیے گئے سابق اسیران کو رہا کرنا ہوگا۔ اس کےبدلے میں حماس غزہ کی پٹی میں موجود یہودیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی۔ لیکن اس کے لیے گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں رہا ہونے والے ان فلسطینیوں کو بھی رہا کرنا پڑے گا جنہیں صہیونی فوج نے پچھلے سال دوبارہ حراست میں لے لیا تھا۔
واضح رہےکہ اسرائیلی فوجیوں نے پچھلے سال غرب اردن سے 73 ایسے فلسطینیوں کو بھی گرفتار کرلیا تھا جنہیں سنہ 2010 ء میں غزہ کی پٹی میں یرغمال فوجی گیلاد شالیت کے بدلے میں رہا کیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
