اسلامی تحریک مزاحمت "حماس”کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹرموسیٰ ابو مرزوق نے تمام سیاسی جماعتوں پر جلد ازجلد قومی حکومت کی تشکیل کے لیے اجلاس بلانے کامطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سنہ 2011 ء میں قاہرہ میں طے پائے مفاہمتی معاہدے کے تحت حکومت سازی میں مزید تاخیر سے کام نہ لیا جائے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس رہ نما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت سازی میں ٹال مٹول سے فلسطینی عوام کے مسائل کے حل میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اس لیے میرا مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں سنہ 2011 ء میں مصرکی ثالثی کے تحت طے پائے معاہدے پرعمل درآمد کرتے ہوئے حکومت سازی کا فیصلہ کریں۔
ابو مرزوق کا کہنا تھا کہ فلسطینی سیاسی قوتوں کو باہمی اتحاد واتفاق کی جتنی آج ضرورت ہے ماضی میں نہیں تھی۔ حکومت سازی سے لے کرتمام قومی ایشوز قوم کے تمام نمائندہ دھڑوں کو ایک نقطہ نظراختیار کرنا ہوگا۔ قومی مفاہمت کے حوالے سے ماضی میں مصر اور سعودی عرب سمیت متعدد دیگرممالک کی ثالثی کے تحت معاہدے طے پاچکے ہیں۔ تمام سیاسی قوتوں کو ان معاہدوں کا احترام کرتے ہوئے مفاہمت کاعمل آگے بڑھانا چاہیے اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے تمام مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
خیال رہے کہ مئی 2011 ء میں مصر کی ثالثی کے تحت حماس اور صدر محمود عباس کی جماعت تحریک "فتح” کے درمیان ایک مفاہمتی معاہدہ طے پایا تھا جسے”میثاق قاہرہ” کا نام دیا گیاتھا۔ اس معاہدے کے تحت صدر محمود عباس کو اپنے عہدے پربرقراررہنے کے لیے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کرنا تھا تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
فلسطین میں ایک ماہ قبل صدر محمود عباس نے حماس کے اشتراک سے قائم مخلوط حکومت ختم کرتے ہوئے وزیراعظم کو نئی کابینہ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اہم سیاسی جماعتوں میں پائے جانے والے اختلافات کے باعث قومی حکومت کی تشکیل کاعمل آگے نہیں بڑھایا جاسکا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
