اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے مرکزی رہ نما اور سابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو اندرون اور بیرون ملک منظم سازش کے تحت بدنام کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے، لیکن قوم حماس اور اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کو بدنام کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں عزالدین القسام شہید بریگیڈ کے زیراہتمام ملٹری پریڈ سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کا اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت پر اتفاق ہے، لیکن قوم کو مسلح جدو جہد سے دور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اس مذموم مقصد کے لیے کبھی جنگ مسلط کی جاتی ہے اور کبھی غزہ کی پٹی کا محاصرہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی قوتوں بالخصوص حماس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
غزہ کی پٹی میں مزاحمتی کیمپوں اور ملٹری پریڈوں کا انعقاد اور ان میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ حماس کو بدنام کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں عزالدین القسام شہید بریگیڈ کے زیراہتمام ملٹری پریڈ سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کا اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت پر اتفاق ہے، لیکن قوم کو مسلح جدو جہد سے دور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اس مذموم مقصد کے لیے کبھی جنگ مسلط کی جاتی ہے اور کبھی غزہ کی پٹی کا محاصرہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی قوتوں بالخصوص حماس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
غزہ کی پٹی میں مزاحمتی کیمپوں اور ملٹری پریڈوں کا انعقاد اور ان میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ حماس کو بدنام کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
القسام بریگیڈ کے زیراہتمام ملٹری پریڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ یہ پریڈ تزویراتی پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک نئی نسل کو تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے خلاف مسلح جدو جہد اب فلسطینی قوم کی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے جسے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اب ہرگ ھر میں مسلح جدوجہد کرنے والے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے لاکھوں عوام کو پچھلے ایک عشرے سے صہیونی دشمن کے محاصرے کا سامنا ہے۔ ایسے میں فلسطینی عوام کے پاس ان پابندیوں کو توڑنے کے لیے مسلح مزاحمت کے سوا اور کیا چارہ باقی رہ جاتا ہے جب مسئلے کے حل کے تمام پرآمن راستے بند کردیے جائیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
