مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان اور جماعت کے پارلیمانی بلاک ’’اصلاح وتبدیلی‘‘ کے چیئرمین صلاح الدین البردویل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینیوں کے درمیان قومی مفاہمت کے لیے سعودی عرب کی طرف سے سیاسی اور مالیاتی تحفظ فراہم کرنے پرحماس کو کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی سعودی عرب کی ایسی کسی کوشش سے مصرکو کوئی اعتراض ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس سعودی عرب کی جانب سے فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کی ہرکوشش کا خیر مقدم کرے گی۔ حماس سعودی عرب کو عرب دنیا کا ایک بڑا ملک تصور کرتی ہے اور ریاض ہی سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت اور اتحاد کی فضاء پیداکرنے میں عملی کردار ادا کرسکتا ہے۔
ڈاکٹر البردویل کا کہنا تھا کہ سنہ 2007 ء میں سعودی عرب میں طے پائے معاہدہ مکہ کی ناکامی کی تمام ترذمہ داری فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور ان کی جماعت تحریک فتح پرعاید ہوتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
