مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سعودی عرب نے فلسطینیوں کے درمیان اتفاق واتفاق کی قابل قدرکوششیں کیں۔ حماس اور تحریک فتح کی قیادت میں مکہ مکرمہ میں مفاہمتی معاہدہ کرایا۔ آج بھی ہم سعودی عرب کی ان مساعی کے ضرورت مند ہیں اور ریاض کی طرف سے کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کریں گے۔
انہوں نے توقع ظاہرکی کہ سعودی عرب کی نئی قیادت قبلہ اول اور فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے منظم جرائم کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی وضع کرے گی۔ اسماعیل ھنیہ نے سعودی عرب کی جانب سے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو میں معاونت اور رفح کے مقام پر 1560 رہائشی مکانات کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔
مصرکی سلامتی اولین ترجیح
سابق فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ ان کی جماعت ’’حماس‘‘ تمام عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ یکساں تعلقات کی خواہاں ہے۔ کسی ایک ملک کو دوسرے پرترجیح نہیں دی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں اگرکسی کو ترجیح حاصل ہے تو مسئلہ کے حوالے سے اس ملک کی غیرمتزلزل حمایت ہے۔ موجودہ حالات میں جہاں فلسطینیوں کواپنی صفوں میں اتحاد واتفاق کی فضاء پیدا کرنا چاہیے وہیں صہیونی ریاست کے ناپاک عزائم کوناکام بنانے کے لیے عالم اسلام میں بھی اتحاد ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصرکی سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ کسی کو مصرکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت ہرگزنہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حماس تمام عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ کھلے دل کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعلقات کےقیام کی خواہاں ہے۔ عالمی برادری سے ہمارے تعلقات کی بنیاد فلسطین، بیت المقدس اور فلسطینی تحریک آزادی کی غیر متزلزل حمایت ہے۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ حماس نے اپنی ستائیس سالہ تاریخ میں یہ ثابت کیا ہے کہ جماعت کسی دوسرے عرم ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرتی ہے۔ حماس نے کبھی کسی گروپ کو کسی دوسرے ملک میں بدامنی پھیلانے کے لیے مالی، عسکری اور دیگر کسی نوعیت کی امداد نہیں دی۔ حماس ہراس ملک کے ساتھ کھڑی رہی رہے گی جو قبلہ اول کےدفاع اور فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرے گا۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ مصرکے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سینا میں حماس کسی قسم کی مداخلت نہیں کررہی ہے۔ ہمار جزیرہ نما سینا میں بھی امن دیکھنا چاہتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
