مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق 75 سالہ الشیخ احمد علی کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس سے ہے۔ اسرائیلی فوج ان کی گرفتاری کے لیے کئی بار ان کے گھر پر چھاپے مار چکی ہے لیکن وہ گرفتار نہیں کیے جا سکے ہیں۔
الشیخ علی کی اہلیہ ھبہ کریمہ نے بتایا کہ گذشتہ روز یہودی فوجیوں کی ایک پارٹی نے نابلس میں ان کے مکان پر چھاپہ مارا اور گھر میں موجود تمام افراد کو گیراج میں بند کردیا گیا۔ اس کے بعد گھر میں جامہ تلاشی لی گئی۔ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی تلاشی کی کارروائی کے بعد صہیونی فوج کے ایک کیپٹن نے بتایا کہ وہ الشیخ علی کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ بہتر ہے کہ وہ خود ہی اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردیں ورنہ انہیں ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ صہیونی فوج پچھلے تین ماہ سے الشیخ احمد علی کا تعاقب کررہی ہے۔ ان کی پیرانہ سالی کے باوجود صہیونی فوجی انہیں گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ پچھلے تین ماہ سے ان کے گھر پر پانچ بار چھاپے مارے جا چکے ہیں۔
