رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل گذشتہ روز جنوبی افریقا کی حکمراں جماعت کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ جوہانسبرگ پہنچے تھے۔ جہاں انہوں نے حکمراں جماعت کی قیادت سے ملاقات کی۔
بعد ازاں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل نے جنوبی افریقا کی حکمراں جماعت کی قیادت کے ساتھ ہوئی بات چیت کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے نسل پرستانہ نظام کے خلاف وسیع ترتعاون کو آگے بڑھانے اور فلسطینیوں کو درپیش صہیونی مظالم کا مل کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیاہے۔
خالد مشعل کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنوبی افریقا کی حکمراں جماعت کے سربراہ جاکوب زوما اور جماعت کی قیادت سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے نسل پرستانہ نظام کے خلاف اور اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم کے حوالے سے نقطہ نظر میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
حماس رہ نما نے نیوز کانفرنس میں جنوبی افریقا کی حکومت، عوام اور حکمران جماعت کو نسل پرستی کے خلاف کامیاب جنگ لڑںے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے نسل پرستی کی جنگ میں قربانیاں دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اسرائیل سیخ پا
دوسری جانب حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کی قیادت میں جماعت کے وفد کے دورہ جنوبی افریقا پر اسرائیل انگاروں پر لوٹ رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر خالد مشعل کے دورہ جنوبی افریقا پر جوہانسبرگ سے احتجاج کیا گیا۔
اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز وزارت خارجہ نے اسرائیل کے ہاں متعین جنوبی افریقا کے قائم مقام سفیر کو طلب کیا اور ان سے جنوبی افریقا کی حکمراں جماعت کی طرف سے خالد مشعل کو خصوصی دعوت پر بلائے جانے پر سخت احتجاج کیا ہے۔
خیال رہے کہ حماس کے لیڈر خالد مشعل کی قیادت میں جماعت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سوموار کو علی الصباح جنوبی افریقا کی حکمراں جماعت "نیشنل کانفرنس” کی دعوت پر جوہانسبرگ پہنچا تھا۔ وفد میں حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوقن سی شعبے کے ارکان سامی خاطر اور محمد نزال بھی شامل تھے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بھی خالد مشعل کے دورہ جنوبی افریقا کو بھرپور کوریج دے کر اسرائیلی ریاست کے منہ پرطمانچہ قرار دیا ہے۔ میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حماس کے وفد کا خصوصی دعوت پر دورہ جنوبی افریقا اسرائیل کے منہ پرطمانچہ ہے۔
